(مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) مرکز فلسطین برائے مطالعاتِ اسیران نے انکشاف کیا ہے کہ سنہ 2025ء کے دوران قابض اسرائیلی حکام نے مغربی کنارے بشمول القدس میں فلسطینیوں کے خلاف گرفتاریوں اور بدترین سلوک کی پالیسی میں بے مثال جارحیت کا مظاہرہ کیا۔ مرکز نے اپنی دستاویزات میں 7500 سے زائد گرفتاریوں کا اندراج کیا جن میں تقریباً 600 کم سن بچوں کی گرفتاریاں بھی شامل ہیں۔
بدھ کے روز جاری بیان میں مرکز نے واضح کیا کہ یہ گرفتاریاں ایک منظم پالیسی کا حصہ ہیں جن کا مقصد فلسطینی سماجی ڈھانچے کو درہم برہم کرنا اور ہر طرح کی مزاحمتی سرگرمی کو کچلنا ہے۔ مرکز نے زور دیا کہ جاری کردہ اعداد و شمار میں ان ہزاروں شہریوں کو شامل نہیں کیا گیا جنہیں اجتماعی گرفتاریوں اور غیر قانونی فیلڈ تفتیش کے دوران حراست میں لیا گیا پھر تشدد اور ذلت آمیز سلوک کے بعد رہا کر دیا گیا۔ ان میں اکثریت سابق اسیران کی تھی۔
مرکز نے نشاندہی کی کہ قابض اسرائیل گرفتاریوں کو اجتماعی سزا اور فلسطینیوں کی روزمرہ زندگی مفلوج کرنے کے ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔ یہ انتقامی پالیسی طاقت کے ذریعے خوف اور دھونس پر مبنی ہے جو بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہے جہاں گرفتاری کو سخت شرائط اور واضح الزامات سے مشروط کیا گیا ہے۔
خواتین اور بچوں کی گرفتاریاں
مرکز فلسطین نے بتایا کہ گرفتاریوں کی لہر نے فلسطینی معاشرے کے تمام طبقات کو نشانہ بنایا جن میں بچے بھی شامل ہیں۔ کم سن بچوں کے 600 گرفتاریاں ریکارڈ کی گئیں جن میں بعض کی عمریں 10 سال سے بھی کم تھیں۔ مرکز نے اسیر بچے ولید احمد 17 سالہ سلواد بلدہ مشرقی رام اللہ کے رہائشی کی شہادت کی بھی تصدیق کی جو جیلوں میں منظم بھوک کی پالیسی کے نتیجے میں پیش آئی جیسا کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں سامنے آیا۔
اسی طرح 200 سے زائد خواتین کو گرفتار کیا گیا جن میں اکثریت پر سوشل میڈیا پر نام نہاد اشتعال انگیزی کے الزامات عائد کیے گئے۔ اس کے علاوہ بزرگ خواتین شہداء اور اسیران کی مائیں اور بہنیں بھی گرفتاریوں کا نشانہ بنیں جو دباؤ اور بلیک میلنگ کی پالیسی کا حصہ ہے۔ اس مہم میں طالباتِ جامعات بھی شامل رہیں جن میں سے بعض تاحال قید میں ہیں جبکہ متعدد کے خلاف انتظامی حراست کے احکامات جاری کیے گئے۔
مرکز نے اس امر کی طرف بھی توجہ دلائی کہ قابض اسرائیل نے متعدد سابق اسیر خواتین کو دوبارہ اسی الزام پر گرفتار کیا خواہ وہ تبادلہ معاہدوں کے تحت رہا ہوئی ہوں یا اپنی سزائیں مکمل کر چکی ہوں۔ یہ اقدام بین الاقوامی معاہدوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
قیدیوں کے ساتھ سفاکیت
مرکز نے تصدیق کی کہ گرفتاریاں آغاز ہی سے جسمانی اور نفسیاتی تشدد کے ساتھ انجام دی جاتی ہیں۔ گھروں پر وحشیانہ چھاپے مارے جاتے ہیں خواتین اور بچوں کو پولیس کتوں کے ذریعے خوف زدہ کیا جاتا ہے املاک کی توڑ پھوڑ کی جاتی ہے اور رقوم اور زیورات لوٹے جاتے ہیں۔ گرفتار افراد کو ان کے اہل خانہ کے سامنے تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ مریضوں کو ادویات اور طبی آلات سے محروم رکھا جاتا ہے گرفتار شدگان کو ہتھکڑیاں لگا کر آنکھوں پر پٹیاں باندھ کر نیند کے کپڑوں میں تفتیشی مراکز لے جایا جاتا ہے جہاں منتقلی کے دوران بھی انہیں مار پیٹ اور بدسلوکی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
اجتماعی گرفتاریاں اور زخمیوں کی حراست
مرکز فلسطین نے بتایا کہ سنہ 2025ء کے دوران بالخصوص دیہات اور پناہ گزین کیمپوں میں اجتماعی گرفتاریوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ ہزاروں شہریوں کو سخت حالات میں فیلڈ تفتیش کے لیے حراست میں لیا گیا اور فلسطینی گھروں کو فوجی چھاؤنیوں اور تفتیشی مراکز میں تبدیل کیا گیا۔
طولکرم شہر میں سب سے بڑی مہمات میں سے ایک ریکارڈ کی گئی جہاں ایک ہی دن میں 1000 سے زائد شہریوں کو گرفتار کیا گیا جن میں بچے خواتین اور بزرگ شامل تھے۔
مرکز نے یہ بھی انکشاف کیا کہ قابض اسرائیلی افواج دانستہ طور پر نوجوانوں کو گولی مار کر زخمی کرتی ہیں پھر انہیں بغیر طبی امداد کے حراست میں لے کر تفتیش کرتی ہیں جس کے نتیجے میں متعدد زخمی شہید ہو گئے۔
غزہ کی پٹی میں گرفتاریاں
مرکز نے تصدیق کی کہ سنہ 2025ء کے دوران گرفتاریوں کی پالیسی غزہ کی پٹی تک بھی پھیل گئی۔ سیکڑوں شہریوں کو خصوصاً رفح اور شمالی غزہ میں گرفتار کیا گیا۔ یہ گرفتاریاں نقل مکانی کی کوششوں کے دوران امداد کے حصول کے وقت یا روزگار کے دوران مثلاً ماہی گیری کرتے ہوئے عمل میں آئیں۔
مرکز فلسطین نے رپورٹ کے اختتام پر بتایا کہ نسل کشی کی جنگ کے دوران قابض اسرائیل نے غزہ سے 14 ہزار سے زائد فلسطینیوں کو گرفتار کیا جن میں سے بیشتر کو رہا کر دیا گیا تاہم تقریباً 1800 اسیر تاحال قید میں ہیں اور ان کے خلاف جبری گمشدگی کی پالیسی بدستور جاری ہے۔
