Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

صومالیہ کے مختلف شہروں میں اسرائیلی فیصلے کے خلاف احتجاج

موغادیشو (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اسرائیل کی جانب سے صومالی لینڈ کو علیحدہ اور خودمختار خطہ تسلیم کرنے کے فیصلے کے خلاف صومالیہ کے دارالحکومت موغادیشو کے مرکزی سٹیڈیم سمیت مختلف شہروں میں دسیوں ہزار افراد نے احتجاجی مظاہرے کیے، اس اقدام کو 20 سے زائد ممالک نے صومالیہ کی خودمختاری پر حملہ قرار دیتے ہوئےمذمت کی ہے،اسی دوران اسرائیل کے اعلان کے بعد صومالیہ  کے صدر حسن شیخ محمود، ترک صدر رجب طیب اردوان سے بات چیت کے لیے ترکیہ پہنچے۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق موغادیشو کے مرکزی سٹیڈیم سمیت مختلف شہروں میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں سے مذہبی و قبائلی رہنماؤں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی فیصلہ علاقائی امن اور صومالیہ کی علاقائی سالمیت کیلئے خطرہ ہے۔مظاہرین نے صومالی پرچم لہرائے اور فیصلے کے خلاف نعرے لگائے۔اسی طرح کے احتجاج جنوب مغربی شہر بیدوا، وسطی صومالیہ  کے شہروں گریعیل اور دھوساماریب، اور شمال مشرقی علاقوں لاس عنود اور بہودلے میں بھی کیے گئے۔

موغادیشو کے جلسے میں مقامی رہنما محمد حسن حاد نے صومالی عوام سے اپیل کی کہ وہ اس فیصلے کی مخالفت کریں اور صومالیہ  کی زمین پر کسی بھی دعوے کی کوششوں سے خبردار رہیں، جبکہ صومالی لینڈ کے عوام سے کہا کہ وہ بھی اس اقدام کو مسترد کریں۔مذہبی سکالر شیخ محمود شیخ ابوالبری نے بھی اسرائیلی فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے اسے ناقابلِ قبول قرار دیا اور کہا کہ اسرائیل کو  صومالیہ  کے کسی بھی حصے میں خوش آمدید کہنا غلط ہے ،خصوصاً اس کے فلسطینیوں اور مسجد اقصیٰ میں مسلمانوں کے ساتھ سلوک کے پیشِ نظر۔
اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں پیر کو صومالیہ   نے احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ یہ تسلیم کیے جانے کا اقدام خطے کے لیے سکیورٹی خدشات کا باعث ہے۔ اسرائیلی نمائندے نے ان تبصروں کو دہرا معیار قرار دیتے ہوئے کہا کہ دیگر ممالک نے بھی فلسطین کو ریاست کے طور پر تسلیم کیا ہے۔ امریکی خصوصی نمائندے نے کہا کہ صومالیہ  کے بارے میں امریکا کا موقف بدستور برقرار ہے۔
اقوام متحدہ میں صومالیہ  کے مستقل نمائندے ابوبکر ظاہر عثمان نے سلامتی کونسل کے اجلاس میں اس فیصلے کے خلاف بات کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کا یہ اقدام نہ صرف ایک خطرناک نظیر قائم کرتا ہے بلکہ علاقائی اور بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے بھی سنگین خطرہ ہے۔گزشتہ روز استنبول میں صومالی صدر حسن شیخ محمود نے ان علاقائی اور بین الاقوامی اداروں کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے اسرائیلی فیصلے کی مخالفت کی اور اسے بین الاقوامی قانون، اقوامِ متحدہ کے چارٹر، افریقی یونین کے اصولوں اور سفارتی ضابطوں کی خلاف ورزی قرار دیا۔
انہوں نے کہاکہ یہ اقدام ایک خطرناک نظیر قائم کرتا ہے، جو خودمختاری، علاقائی سالمیت اور عدم مداخلت کے اصولوں کے منافی ہےاور یہی اصول عالمی نظام کی بنیاد ہیں۔انہوں نےکہا کہ ایسے اقدامات تشدد پسند انتہا پسند گروہوں کو تقویت دیتے ہیں، جو بیرونی مداخلت کے بیانیوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور اس کا نتیجہ صومالیہ  اور پورے قرن افریقہ کے لیے مزید عدم استحکام کی صورت میں نکل سکتا ہے، جو پہلے ہی مسلح تنازعات، انسانی بحران اور سیاسی کمزوریوں کا سامنا کر رہاہے۔
ترک صدر نے صومالیہ کی وحدت اور سالمیت کی بھرپور حمایت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کا اسرائیلی فیصلہ غیر قانونی اور ناقابلِ قبول ہے۔انہوں نے کہا کہ ہر صورت میں صومالیہ  کی وحدت اور سالمیت کا تحفظ ہماری اولین ترجیح ہے،اور الزام لگایا کہ اسرائیل  قرن افریقہ کو عدم استحکام کی طرف دھکیلنے کی کوشش کر رہا ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan