(مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قابض اسرائیل کے اندر انتہا پسند دائیں بازو کی حکومت اور عدالتی اداروں کے درمیان داخلی اختلافات شدت اختیار کر گئے ہیں، جو سیاسی اور ادارہ جاتی بحران کی گہرائی کو ظاہر کرتے ہیں۔ یہ صورتحال انتہا پسند وزیر خزانہ بزلئیل سموٹریچ کی جانب سے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس یتسحاق عميت پر شدید اور توہین آمیز حملے کے بعد پیدا ہوئی۔
ایک سرکاری ردعمل میں چیف جسٹس عميت نے بزلئیل سموٹریچ کے بیانات کو نازیبا الفاظ پر مشتمل اور سرخ لکیر عبور کرنے کے مترادف قرار دیا اور واضح کیا کہ ایسے بیانات نہ تو ان کے راستے کو بدل سکتے ہیں اور نہ ہی عدالتی ادارے کی کارکردگی کو متاثر کر سکتے ہیں۔
چیف جسٹس عميت نے عدالتی نظام کے افراد کے نام اپنے پیغام میں بتایا کہ گذشتہ روز دوپہر کے بعد انہیں درجنوں ججوں اور عدالتوں کے سربراہان کی جانب سے پیغامات موصول ہوئے جن میں ان بیانات پر ذاتی توہین کے احساس اور عدلیہ کے وقار کو پہنچنے والے نقصان پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ حملہ صرف ان کی ذات پر نہیں بلکہ پورے عدالتی ادارے کو نشانہ بنانے کے مترادف ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے ججوں کی یکجہتی پر ان کا شکریہ ادا کیا اور انہیں یقین دلایا کہ یہ خطرناک اور حد سے تجاوز کرنے والے بیانات انہیں اپنے راستے سے ہرگز نہیں ہٹا سکیں گے۔
چیف جسٹس نے زور دیا کہ وہ عدالتی ادارے کی قیادت، سربلندی ،حکمت اور سرکاری وقار کے ساتھ جاری رکھیں گے کیونکہ وہ عوام کی خدمت اور عدلیہ کی خودمختاری کے تحفظ کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے بیانات کی سنگینی اس بات میں مضمر ہے کہ یہ عدالتوں کے وقار اور کسی بھی نام نہاد جمہوری نظام میں ان کے کردار کو کمزور کرنے کی کوشش ہیں۔
جسٹس عميت نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اس نوعیت کے حملے ججوں کو کمزور نہیں کر سکتے کیونکہ عدالتی نظام کی اصل طاقت اس کی روزمرہ پیشہ ورانہ اور دیانت دارانہ کارکردگی سے جنم لیتی ہے جو تمام شہریوں کی خدمت کے لیے وقف ہے۔ انہوں نے کہا کہ بہترین جواب یہی ہے کہ ہر فرد اپنی ذمہ داری اور منصب کے مطابق اپنے فرائض انجام دیتا رہے۔
انہوں نے عدالتوں کے اندر گفتگو کے ضبط کو برقرار رکھنے کی اہمیت پر بھی زور دیا خصوصاً اس وقت جب عوامی بحث شدت اختیار کر چکی ہے اور ججوں پر دوہری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ سرکاری وقار کی حفاظت کریں اور عدالتوں کو سنجیدہ اور پیشہ ورانہ مکالمے کا مرکز بنائے رکھیں۔
چیف جسٹس نے اپنے پیغام کے اختتام پر اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ اور سپریم کورٹ توراتی وصیت کے مطابق کسی سے خوف زدہ نہیں ہوں گے جو عدلیہ کی خودمختاری اور سیاسی دباؤ کے آگے نہ جھکنے کی واضح علامت ہے۔
واضح رہے کہ بزلئیل سموٹریچ نے گذشتہ روز سپریم کورٹ کے چیف جسٹس پر بے مثال حملہ کرتے ہوئے انہیں ایک پرتشدد جنونی قرار دیا اور انہیں کچل دینے کی دھمکی دی تھی جس پر سیاسی اور عدالتی حلقوں میں شدید ردعمل سامنے آیا۔
ان بیانات کے بعد عدالتی ادارے نے ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا کہ ججوں کو دی جانے والی دھمکیاں کسی بھی صورت جائز عوامی بحث کا حصہ نہیں ہو سکتیں اور انہیں نہایت خطرناک قرار دیا گیا خصوصاً اس لیے کہ یہ دھمکیاں ایک منتخب عہدیدار کی جانب سے دی گئی ہیں۔
