(مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ نے کہا ہے کہ فلسطینی صحافیوں کے خلاف قابض اسرائیل کے جرائم حق کی آواز کو دبانے میں کبھی کامیاب نہیں ہوں گے اور فلسطینی صحافت کا کردار قابض دشمن کی گولیوں سے کہیں زیادہ طاقت ور ثابت ہو گا۔
حماس نے فلسطینی صحافیوں سے آج اکتیس دسمبر’یوم وفائے عہد’ کے موقع پر ایک پریس بیان میں فلسطین میں صحافیوں کے خلاف کیے گئے جرائم پر قابض اسرائیل کے قائدین کے تعاقب اور ان کے عالمی سطح پر احتساب کا مطالبہ کیا۔
حماس نے کہا کہ یہ موقع فلسطینی صحافیوں پر اس وقت آ رہا ہے جب غزہ پر دو سال تک جاری رہنے والی نسل کش جنگ کے دوران سنہ سات اکتوبر 2023ء سے اب تک 257 صحافی شہادت کے منصب پر فائز ہو چکے ہیں۔
حماس نے مزید کہا کہ غزہ پر مسلط جنگ نے ثابت کر دیا ہے کہ قابض اسرائیل صحافت اور صحافیوں کا سب سے بڑا اور خطرناک دشمن ہے کیونکہ فلسطینی صحافی اس کے جرائم اور قتل عام کو بے نقاب کرنے والی آنکھ اور آواز بنے اور انہوں نے زمینی حقائق دنیا تک پہنچا کر صہیونی پروپیگنڈے کو پاش پاش کیا حالانکہ انہیں مسلسل براہ راست نشانہ بنایا گیا۔
بیان میں بتایا گیا کہ فلسطینی عوام سنہ 2010ء سے اس دن کو غزہ کی فلسطینی حکومت کے فیصلے کے تحت مناتے آ رہے ہیں تاکہ سچ کی ترسیل اور فلسطینی بیانیے کے استحکام کے لیے صحافیوں کی جدوجہد قربانیوں اور کردار کو خراج تحسین پیش کیا جا سکے۔ بیان میں اس بات پر زور دیا گیا کہ فلسطینی صحافی اپنے عوام کے ساتھ جڑے رہے ان کے دکھ درد اور امیدوں کے ساتھی بنے اور فلسطین اور اس کے عادلانہ قضیہ کے دفاع میں سچ کی آنکھ بن کر کھڑے رہے۔
گذشتہ دو برسوں کے دوران انسانی حقوق اور صحافتی تنظیموں کی رپورٹس میں دستاویز کیا گیا ہے کہ غزہ پر قابض اسرائیل کی نسل کش جنگ جدید تاریخ میں صحافیوں کے خلاف سب سے زیادہ خونریز جنگوں میں سے ایک ہے۔ ان رپورٹس میں دوران کوریج براہ راست قتل صحافیوں کے گھروں کو نشانہ بنانے گرفتاریوں اور مقامی اور عالمی میڈیا اداروں کے دفاتر کی تباہی کے واقعات شامل ہیں جو بین الاقوامی انسانی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے جو مسلح تنازعات میں صحافیوں کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے۔
حماس نے اپنے بیان میں حق اور آزاد ی اظہار رائےکے شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا ،زخمی صحافیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی اور قابض اسرائیل کی جیلوں میں قید صحافیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ انسانی حقوق اور انسانی ہمدردی کی تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ ان جرائم کی مسلسل دستاویز بندی اور بے نقابی جاری رکھیں اور ان کے مرتکبین کو عالمی عدالتوں میں کٹہرے میں لانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
تحریک نے دنیا بھر کے میڈیا اداروں سے بھی اپیل کی کہ وہ معروضیت دیانت اور امانت کے اصولوں کا ساتھ دیں اور غزہ اور پورے فلسطین میں ہونے والی حقیقت کو دنیا کے سامنے لائیں اور قابض اسرائیل کے جھوٹ اور گمراہ کن میڈیا بیانیے کا شکار نہ ہوں۔
