Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

فلسطین کے حق میں لندن میں طویل ترین بھوک ہڑتال

مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن

برطانیہ میں ’’فلسطین ایکشن‘‘ سے وابستہ آٹھ گرفتار کارکن اپنے اوپر جولائی میں اس گروپ پر پابندی عائد کیے جانے کے بعد سے جاری حراست کے خلاف گذشتہ تیس دن سے زائد عرصے سے کھلے عام بھوک ہڑتال جاری رکھے ہوئے ہیں۔

برطانوی رپورٹوں کے مطابق بھوک ہڑتال کرنے والے بعض کارکنوں کو طبی نگہداشت فراہم کی جا چکی ہے جب کہ طویل بھوک ہڑتال کے نتیجے میں ان کی صحت پر شدید خدشات بڑھتے جا رہے ہیں۔

یہ احتجاجی اقدام برطانوی جیلوں میں سنہ اسی کی دہائی کے بعد ہونے والی سب سے طویل اجتماعی بھوک ہڑتال قرار دیا جا رہا ہے۔ کارکنوں کا کہنا ہے کہ یہ صورت حال برطانوی حکام اور قابض اسرائیل کی پالیسیوں کے خلاف متحرک گروپوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشمکش کو بے نقاب کرتی ہے۔

اسی سلسلے میں ویب سائٹ ’’دی کنیری‘‘ نے اپنی رپورٹ میں برطانوی نشریاتی ادارے “بی بی سی” کی جانب سے اس انسانی اور سیاسی نوعیت کے مسئلے کی عدم کوریج پر شدید تنقید کی۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ متبادل میڈیا اس معاملے پر روزانہ کی بنیاد پر تازہ معلومات شائع کر رہا ہے جب کہ سرکاری نشریاتی ادارہ اس اہم ترین انسانی مسئلے سے نظریں چرا رہا ہے۔

لندن میں “بی بی سی” کے دفتر کے باہر کارکنوں نے احتجاج بھی کیا اور کہا کہ کوریج سے دانستہ گریز ایک جانب داری ہے خصوصاً ایسے وقت میں جب غزہ پر جنگ کے دوران برطانوی میڈیا کے کردار پر بھی شدید تنقید ہو رہی ہے۔ اس سے متعلق ویڈیوز بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر گردش کر رہی ہیں۔

دی کنیری کے مطابق برطانوی وزیر انصاف ڈیوڈ لیمی نے کہا کہ وہ اس کیس سے ’’باخبر نہیں‘‘ ہیں۔ ان کے اس بیان نے کارکنوں میں بے چینی بڑھا دی جنہوں نے کہا کہ اتنے بڑے انسانی مسئلے سے لاتعلق رہنا ناقابل فہم ہے۔

برطانوی رکن پارلیمنٹ زارا سلطانہ نے کہا کہ موجودہ حکومت ’’سنہ اسی کی دہائی کے بعد کی سب سے بڑی منظم بھوک ہڑتال‘‘ کی نگرانی کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’فلسطین ایکشن‘‘ پر غزہ پر جنگ کے خلاف سرگرمی کی وجہ سے پابندی لگائی گئی جس نے برطانیہ بھر میں شدید اعتراضات کو جنم دیا ہے۔

انہوں نے اس مسئلے کی میڈیا میں عدم کوریج کو ’’حیران کن‘‘ قرار دیا اور کہا کہ یہ رویہ حکومت کے ان اقدامات کو تقویت دیتا ہے جنہیں انہوں نے آزادی اظہارِ رائے کے خلاف پابندیاں کہا۔

ویب سائٹ پر جاری ایک ویڈیو میں دکھایا گیا کہ زارا سلطانہ نے برونزفیلڈ جیل کا دورہ کر کے بھوک ہڑتالی کارکنوں کی حالت کا جائزہ لیا۔ انہوں نے قیدیوں کے حالات پر تشویش کا اظہار کیا اور فوری سرکاری ردعمل کی ضرورت پر زور دیا۔

رواں ماہ کے آغاز میں برطانوی ایوانِِ عامہ کے 37 ارکان پارلیمان نے ایک درخواست پیش کی تھی جس میں وزیر انصاف سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ قیدیوں کے ساتھ باعزت سلوک اور بنیادی انسانی حقوق کے احترام کو یقینی بنائیں۔ درخواست گزاروں نے کہا کہ اس حد تک بھوک ہڑتال پر مجبور ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ احتجاج کے روایتی راستے ان کارکنوں کے لیے مکمل طور پر بند کر دیے گئے ہیں۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan