مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن
تحریر: ڈاکٹر صابر ابو مریم
سیکرٹری جنرل فلسطین فائونڈیشن پاکستان
29نومبر کا دن ہر سال فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی کا دن منایا جاتا ہے اور اس دن کو منانے کے لئے اقوام متحدہ بھی اہتمام کرتی ہے کیونکہ اس دن کی خیانت بھی اقوام متحدہ نے انجام دی تھی۔ا س دن کو یوم یکجہتی فلسطین قرار دیا گیا ہے لیکن حقائق اور تحقیقی جائزہ سے اندازاہ ہوتا ہے کہ یہ دن یکجہتی فلسطین کا دن نہیں بلکہ خیانت کا عالمی دن ہونا چاہئیے۔یہ دن 1947 کی اقوام متحدہ کی قرارداد 181 کی یاد دلاتا ہے، جس نے فلسطین کی زمین کو زبردستی دو حصوں میں تقسیم کیا اور اس عمل سے فلسطینی عوام شدید نقصان اور بے گھری کا شکار ہوئی۔
اقوام متحدہ کی قرارداد 181 بظاہر تقسیم کا منصوبہ تھا، لیکن حقیقت میںیہ ایک ایسی خیانت تھی جس کا خمیازہ آ ج تک فلسطین ہی نہیں بلکہ غرب ایشیائی ممالک سمیت دنیا کی دیگر اقوام بھی بھگت رہی ہیں۔اسی قرار داد کی وجہ سے ہی سنہ1948میں فلسطین پر ایک ناجائز غاصب صیہونی ریاست اسرائیل کو قائم کیا گیا۔سنہ1947میں جس وقت یہ قرارداد منظور کی گئی اس وقت فلسطینی آبادی 67% تھی اور یہودی آبادی صرف تقریباً 33% تھی۔ زمین کا 55% صیہونیوں کو، اور 45% مقامی فلسطینیوں کو دیا گیا۔ یہ ایک ایسی ناانصافی کی گئی جس پر اقوام متحدہ کی مہر ثبت کی گئی ۔فلسطینی عوام نے اس تقسیم کو مکمل طور پر رد کر دیا لیکن عالمی طاقتوںخصوصاً امریکہ اور برطانیہ—نے اس قرارداد کو غیر معمولی دباؤ ڈال کر منظور کروایا۔ اس قرارداد کے حق میں صرف 33ووٹ آئے جبکہ 13ممالک نے اس کی مخالفت میں ووٹ دئیے اور 10ممالک نے خاموشی یعنی غیر حاضری کی۔ قرارداد کے حق میں ووٹ دینے والوں میں بھی اکثریت ایسے ممالک کی تھی جن کا دور دور تک مغربی ایشیائی خطے سے کوئی تعلق نہ تھا لیکن انہوںنےا مریکہ اور برطانیہ کے دبائو میں ووٹ دیا ۔
دراصل اقوام متحدہ میں پیش کی جانے والی قرارداد 181سے پہلے ماضی میں پہلی عالمی جنگ کے بعد 1917 میں برطانیہ نے Balfour Declarationجاری کیا تھا۔، جس میں فلسطین میں یہودی وطن کے قیام کا وعدہ کیا گیاتھا ۔ اس اقدام نے فلسطینی عربوں کی خود ارادیت کو نظر انداز کیا اور علاقے میں موجود آبادیاتی توازن کو خراب کیا۔اس کے بعد سے برطانیہ نے دنیا بھر سے یہودیوں کو لا لا کر فلسطین میں آباد کیا اور آخر کار سنہ1947میں قرارداد 181کے ذریعہ فلسطین کی تقسیم کی خیانت کو انجام دیا۔ برطانیہ نے یہودی آبادکاروں کو سیاسی اور عسکری حمایت فراہم کی اور نتیجہ میں سنہ1948میں فلسطین پر ناجائز ریاست اسرائیل قائم کی گئی۔
برطانیہ نے فلسطین پر اپنے مینڈیٹ کے دوران فلسطینی عوام کی سیاسی خواہشات کو نظر انداز کیا۔ دوسری طرف برطانیہ نے فلسطین پر قبضہ کے لئے صیہونیوںکو مکمل مدد فراہم کی اور صیہونی ملیشیاؤں کو زمین پر قبضہ، ہتھیار جمع کرنے اور سیاسی طاقت بنانے کی اجازت دی، جبکہ فلسطینی عربوں کی مزاحمت کو کچلنے کی کوشش کی گئی ۔ یہ اقدام اس بات کی دلیل ہیں کہ فلسطین کے ساتھ ایک عالمی خیانت کی گئی جس کو اقوام متحدہ کا لیبل لگایا گیا۔
فلسطین پر صیہونی تسلط کے لئے امریکہ نے بھی صیہونیوں کی بھرپور مدد کی اور امریکہ نے قرارداد 181 کے حق میں دباؤ ڈالنے کے لیے کئی ممالک پر سفارتی دباؤ اور اقتصادی دھمکیاں دی۔ اس دباؤ کے نتیجے میں کئی ممالک نے اپنے ووٹ کی آزادانہ رائے کے بجائے امریکی پالیسی کے مطابق فیصلہ کیا۔ اس نے ظاہر کیا کہ عالمی طاقتیں انصاف کے بجائے اپنے مفادات کو ترجیح دیتی ہیں۔
اقوام متحدہ کی طرف سے قرارداد 181 کے بعد ہونے والے مظالم کو روکنے کے لیے کوئی عملی اقدام نہیں کیا گیا۔ 1948 کی جنگ، 1967 کی جنگ، اور اس کے بعد کی صیہونی بستیوں کی تعمیر، فلسطینی محاصرے اور نسل کشی کے خلاف اقوام متحدہ نے عملی اقدامات نہیں کیے۔ اکثر اوقات اقوام متحدہ کی قراردادوں کو محض الفاظ تک محدود رکھا گیا ہے، جس سے مظلوم فلسطینی عوام کی آواز دبتی رہی۔
یہاں پر ایک اور ام نقطہ یہ بھی ہے کہ اقوام متحدہ کہ جس کی جنرل اسمبلی کی قراردادوں پر عمل درآمد کی کوئی ضروری ذمہ داری عائد نہیں ہوتی یعنی سلامتی کونسل کی قرارداد کے مقابلہ میں جنرل اسمبلی کی قراردادوں کو عملی جامہ پہنانے میں اہمیت نہیں دی جاتی لیکن تاریخ میں پہلی مرتبہ ایسا ہوا کہ استعماری قوتوںنے جنرل اسمبلی کے غیر منصفانہ فیصلہ کو اپنے مفادات کے تحفظ کے لئے عملی جامہ پہنایا اور غرب ایشیائی خطے میں ایک ایسی ناجائز ریاست کی بنیاد رکھ دی کہ جس نے گذشتہ 78سالوں سے خطے میں دہشت گردی اور جنگ کو فروغ دیا ہے۔
اقوام متحدہ کی اسی قرار داد کی بدولت جہاں ایک طرف فلسطین پر صیہونی قبضہ کیا گیا وہاں ساتھ ساتھ یوم نکبہ والے دن پندرہ لاکھ سے زائد فلسطینیوں کو ان کے اپنے وطن اور گھر سے جبری طور پر نکال دیا گیا جو آج تک مہاجرین کی زندگیاں گزار رہیں ہیں۔تاریخی شواہد کے مطابق یوم نکبہ پر صیہونیوںنے پانچ سو سے زائد فلسطینی گائوں اور شہروں پر حملے کئے اور انہیں تباہ کر دیا۔ یہ سب کچھ برطانوی استعمار کی سرپرستی اور فلسطین میں صیہونیوں کو دی گئی کھلی چھٹی کے باعث انجام پاتا رہا۔منظم قتل عام کیا گیا اور آج تک یہ منظم نسل کشی جاری ہے۔فلسطینیوں کی زمینوں پر قبضہ کا سلسلہ جو سنہ1948میں شروع ہوا تھا وہ آج بھی جاری ہے اور فلسطینی عوام کو ان گھروں اور زمینوں سے محروم کیا جا رہاہے۔فلسطینی عوام کی ثقافت کو پوری طاقت کے ساتھ کچلنے اور مٹانے کی کوشش کی گئی۔اسی لئے فلسطینی عوام اس واقعہ کو نکبہ قرار دیا ۔یعنی ایک تباہی اور قیامت کا دن ۔
دوسری طرف فلسطینی عوام نے عالمی استعماری قوتوں امریکہ اور برطانیہ کی تمام تر سازشوں کا مقابلہ کیا چاہے وہ 1917میں بالفور اعلامیہ ہو یا پھر سنہ1947میں اقوام متحدہ کی غیر منصفانہ قرارداد ہو او ر اس کا تسلسل نکبہ ہی کیوں نہ ہو، فلسطینی عوام نے کبھی ہار نہیں مانی اور ہمیشہ اپنے حق کی آواز بلند کی ہے اور فلسطین پر فلسطینی عوام کے حق کے لئے جدوجہد جاری رکھی ہے جو آج بھی جاری ہے۔فلسطینی عوام نے ہمیشہ سے اپنے وطن کی آزادی کے لیے مزاحمت جاری رکھی اور اس مزاحمت نے ہی فلسطینی عوام کی عالمی سطح پر مظلومیت کو اجاگر کیا ہے۔یہ جدوجہد آج بھی جاری ہے، اور فلسطینی عوام عالمی ضمیر کو جگانے کی کوشش کر رہے ہیں۔طوفان اقصیٰ کا آغاز فلسطینی عوام کی اس انتھک جدوجہد کا تسلسل ہے جو ایک صدی پر محیط ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ 29 نومبر صرف ایک تاریخی دن نہیں، بلکہ ایک یاد دہانی ہے کہ عالمی طاقتیں اکثر انصاف کے بجائے اپنے مفادات کو ترجیح دیتی ہیں۔ اقوام متحدہ مظلوم عوام کے حقوق کی حفاظت میں ناکام تھی اور آج بھی ناکام نظر آتی ہے۔ فلسطینی عوام نے کئی دہائیوں تک اپنی زمین اور آزادی کے لیے قربانیاں دی ہیںجس کا تسلسل آج بھی جار ی ہے۔یہ دن بتاتا ہے کہ اقوام متحدہ اس دن کو یوم یکجہتی فلسطین قرار دے کر اپنی اس خیانت اور ناانصافی سے بچ نہیں سکتی جو اس نے ماضی میں فلسطینیوں کے ساتھ کی ہے۔ فلسطینی ہی نہیں پوری دنیا کے عوام اس ناانصافی پر نالاں ہیں اور جب بھی یہ دن آئے گا وہ زخم تازہ ہوں گے اور دنیا بھر کے انسانوں کی صدائیں چیخ چیخ کر بتائیں گی کہ فلسطین کے خیانت کی ذمہ دار اقوام متحدہ ہے جو حقیقت میں امریکہ اور برطانیہ سمیت دیگر مغربی ممالک کی لونڈی بن چکی ہے۔
البتہ یہ دن فلسطینی عوام اور فلسطین کا زکی حمایت کرنے والوں کے لئے اس نوعیت سے زیادہ اہم ہے کہ اس دن فلسطین کے لئے جتنی آواز اٹھائی جائے ضروری ہے اور دنیا کے عوام ان بے ضمیر عالمی اداروں کو بتائیں کہ ہم سب فلسطین کے ساتھ ہیں۔فلسطین تنہا نہیں ہے۔