Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

Palestine

غزہ :میں اسرائیلی سفاکیت میں دہشت گردی کے تمام سابقہ ریکارڈ توڑ دیے گئے:انسانی حقوق گروپ

غزہ  (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) انسانی حقوق کی تنظیم ’یورو-میڈیٹیرینین ہیومن رائٹس مانیٹر ‘نے کہا ہے کہ غزہ کی پٹی میں قابض اسرائیل کی طرف سے کیے جانے والے جرائم داعش جیسے مسلح گروہوں کی طرف سے کیے جانے والے جرائم سے زیادہ ہولناک، منظم اور وسیع ہیں، جن کی بین الاقوامی سطح پر مذمت کی گئی ہے۔ فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی دہشت گردی پر عالمی برادری آج خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ فلسطینیوں کی منظم نسل کشی ہو رہی ہے۔ قابض ریاست فلسطینیوں کے وجود کو ان کی سرزمین سے مٹانے کے اعلانیہ ارادے کے ساتھ ان کے خلاف نسل کشی کے جرائم کا ارتکاب کررہا ہے۔

یورو-میڈیٹیرینین ہیومن رائٹس مانیٹر نے وضاحت کی کہ قابض اسرائیلی فوج نے جمعرات 3 اپریل 2025ء کو صبح سویرے غزہ شہر کے مشرق میں واقع شجاعیہ محلے کے قلب میں ٹن بارود سے لدے ایک روبوٹ بم کا دھماکہ کیا۔ یہ دھماکہ ایک ایسے علاقے میں کیا گیا جہاں بے گھر افراد کی بڑی تعداد موجود تھی جبکہ اس میں کسی قسم کی عسکری سرگرمی کا کوئی وجود نہیں تھا۔یہ دھماکا دہشت گرد تنظیموں کے رویے کو مجسم بناتا ہے، اور یہاں تک کہ اس سے بڑھ کر سفاکیت اور انسانی جانوں کو نظر انداز کر نے کا مجرمانہ ثبوت ہے۔ اس کا کسی ریاست کے رویے سے کوئی تعلق نہیں ہے جسے بین الاقوامی قانون کی پابندی کرنی چاہیے۔

یورو-میڈیٹیرینین ہیومن رائٹس مانیٹر نے رپورٹ کیا کہ روبوٹ بم نے اپنے رہائشیوں کے سروں پر ایک مکمل رہائشی بلاک کو تباہ کرنے کے بعد 21 فلسطینیوں کو شہید اور تقریباً 100 کو زخمی کیا، جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی تھی۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ قابض اسرائیلی فوج نے گذشتہ چند ماہ کے دوران بالخصوص شمالی غزہ کی پٹی میں زمینی کارروائیوں کے دوران رہائشی محلوں کے قلب میں روبوٹس کو دھماکے سے اڑانے کی پالیسی اپنائی ہے۔ انہوں نے تصدیق کی کہ اس طرح کے 150 سے زیادہ بم دھماکوں کا ریکارڈ کیا گیا جس کے نتیجے میں سینکڑوں شہری شہید ہوئے، جن میں سے زیادہ تر خواتین اور بچے تھے، اور گھروں اور بنیادی ڈھانچے کو بڑے پیمانے پر تباہی سے دوچار کیا۔

یورو-میڈیٹیرینین ہیومن رائٹس مانیٹر نے کہا کہ قابض اسرائیلی فوج نے 23 مارچ کو اس بھیانک جرم کا ارتکاب کیا، جب انہوں نے اقوام متحدہ کے ایک ملازم کے علاوہ فلسطینی ریڈ کریسنٹ اور سول ڈیفنس کے 15 امدادی عملے کو گرفتار کیا اور پھر انہیں گولیاں مار کر شہید کردیا۔ان میں سے کچھ کو ہتھکڑیاں لگا کر گولیاں ماری گئی تھیں۔ اس طرح کے وحشیانہ جرائم کے نمونے داعش کے طرز عمل کی عکاسی کرتے ہیں۔

یورو-میڈیٹیرینین ہیومن رائٹس مانیٹر نے کہا کہ اس کی فیلڈ ٹیم نے قابض اسرائیلی فوج کی طرف سے کیے گئے ہزاروں جرائم کا ریکارڈ مرتب کیا ہے۔ یہ نام نہاد اسرائیلی ریاست کے جنگی جرائم پر مبنی اقدامات کی ہولناک نوعیت اور ایسے جرائم کے نمونے کی موجودگی کا حتمی ثبوت ہیں جو جدید دور میں پیمانے، ہدف سازی اور ارادے کے لحاظ سے بے مثال ہیں۔ نسل کشی کی اس وحشیانہ جنگ میں 58,000 سے زیادہ لوگ مارے جا چکے ہیں جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan