غزہ (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) صحافیوں کے دفاع کے لیے سرگرم تنظیم کی جانب سے فلسطین میں قابض صہیونی فوج کےہاتھوں صحافیوں کے وحشیانہ قتل عام پر اکسانے کی شرانگیز مہم چلانے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔
ایک پریس بیان میں صحافیوں کے تحفظ کی کمیٹی نے اسرائیلی میڈیا اور عسکری حلقوں میں بڑھتے ہوئے مخالفانہ بیانات کے جلو میں صحافیوں کے خلاف ان دھمکیوں کے سنگین نتائج سے خبردار کیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی میڈیا اور عسکری و سیاسی حلقوں کی طرف سے فلسطینی صحافیوں کے خلاف اشتعال انگیز بیانات انہیں دانستہ طور پر نشانہ بنانے پر اکسانے کی سوچی سمجھی کوشش ہے۔
انسانی حقوق کمیٹی نے کہا کہ صحافی انس الشریف کو اسرائیلی میڈیا میں ایک منظم اشتعال انگیز مہم کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، جس میں ان پر فلسطینی مزاحمتی دھڑوں کے ساتھ ملی بھگت کا الزام لگایا جا رہا ہے اور ان کے قتل کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہےجو آزادی صحافت اور جنگی علاقوں میں صحافیوں کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے۔
جرنلسٹس پروٹیکشن کمیٹی نے صحافیوں کے خلاف اکسانے کو آزادی صحافت پر حملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی شرانگیز مہم کامقصد صہیونی ریاست کے بیانیے کو فروغ دینا اور فلسطینی صحافتی آوازوں کا گلا دبانا ہے۔
مرکز نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ فلسطینی صحافیوں کے تحفظ اور ان کی مالی اور قانونی مدد بڑھانے کے لیے فوری اقدام کرے۔
اسرائیلی فوج کے ترجمان یونٹ میں عربی میڈیا ڈپارٹمنٹ کے سربراہ اویچائی ادرعی نے متعدد پوسٹس کے ذریعے صحافیوں انس الشریف، تامر المسحال اور الجزیرہ کے عملے کے قتل پر اکسایا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ یہ صحافی روزانہ کی بنیاد پر ایک منظم مقصد کے تحت نام نہاد صہیونی ریاست کے خلاف مواد شائع کررہے ہیں۔
یہ مہم قابض اسرائیل کی تمام آوازوں کو دبانے اور خاموش کرنے کی پالیسی کا حصہ ہے۔ ایسی آوازیں فلسطینی عوام کے مصائب، ثابت قدمی اور بہادری کا اظہار کرتی ہیں۔ غزہ کی پٹی میں 18 ماہ سے جاری تباہ کن جارحیت میں قابض فوج نے 200 سے زائد صحافیوں کو شہید کیا ہے۔