غزہ (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قابض اسرائیلی فوج نے غزہ پر جاری اسرائیلی جارحیت اور دہشت گردی کے دوران ایک اور بزرگ فلسطینی رہ نما کو قاتلانہ حملے کا نشانہ بنا کر شہید کردیا۔
پرزنرز انفارمیشن آفس نے ایک بیان میں بتایا کہ سابق اسیر رہ نما جبر عمار المعروف ابو علی کو گذشتہ روز غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فوج کی بمباری میں شہید کریا گیا۔ انفارمیشن آفس کی طرف سے ان کی شہادت پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے سوگ کا اعلان کیا ہے۔
دفتر نے منگل کو ایک بیان میں کہا کہ شہید رہ نما 1967ء کے بعد قابض اسرئیل کے خلاف مزاحمت کرنے والے جنگجوؤں کی پہلی نسل میں شامل تھے، انہوں نے 14 سال اسیری میں گزارے، اس دوران انہوں نے قابض جیلوں کے اندر ثابت قدمی اور استقامت کی مثال قائم کی۔ انہوں نے 1983 کے تبادلے کے معاہدے میں رہائی کے بعد اپنی جدوجہد جاری رکھی، اپنے اصولوں پر ثابت قدم رہے اور 40 سال سے زائد جلاوطنی کے دوران اپنے مقصد کا دفاع کرتے رہے، یہاں تک کہ انہوں نے غزہ کی سرزمین پر شہادت کا اعزاز حاصل کر لیا۔
ان کی اہلیہ نے بتایا کہ قابض فوج نے جبر عمار کو اس وقت بمباری کا نشانہ بنایا جب وہ نماز ادا کررہے تھے۔ وہ حالت نماز میں ابدی جنتوں کے مکین ہوگئے۔