غزہ (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) غزہ میں سرکاری میڈیا آفس نے کہا ہے کہ قابض اسرائیلی فوج رفح میں 15 ایمبولینس اور شہری دفاع کے اہلکاروں کو اغوا کرکے جبری گمشدگی کے اپنے جرائم جاری رکھے ہوئے ہیں۔ میڈیا آفس نے ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔
دفتر نے منگل کو ایک بیان میں وضاحت کی کہ قابض ریاست نے ایک نیا جرم کیا، جس سے اس کے سیاہ ریکارڈ میں اضافہ ہوا۔ دو روز قبل قابض فوج نے غزہ کی پٹی کے جنوب میں واقع رفح گورنری میں ایمبولینس، ایمرجنسی اور سول ڈیفنس ٹیموں کے 15 ارکان کو اس وقت اغوا کر لیا جب وہ جان بچانے اور مصیبت زدوں کو امداد فراہم کرنے کا انسانی فریضہ ادا کر رہے تھے۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ یہ گھناؤنا جرم جنیوا کنونشنز کے تحت بین الاقوامی تحفظ حاصل کرنے والے انسانی ہمدردی کے اہلکاروں کی جان بوجھ کر جبری گمشدگی کے ذریعے بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی کی نمائندگی کرتا ہے۔ یہ واضح طور پر “قابض اسرائیل” کی طرف سے طبی اور انسانی ہمدردی کے عملے کو نشانہ بنانے کی مجرمانہ پالیسی کو ظاہر کرتا ہے، جو بین الاقوامی معاہدوں کی براہ راست خلاف ورزی ہے‘۔
انہوں نے ان مغوی افراد کی قسمت اور حفاظت کے لیے قابض اسرائیل اور امریکی انتظامیہ کو مکمل طور پر ذمہ دار ٹھہرایا، اور اس دہشت گردی کو ایک جنگی جرم قرار دیتے ہوئے مجرموں کو کٹہرے میں لانے پر زور دیا۔
انہوں نے عالمی برادری، اقوام متحدہ، انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس اور تمام انسانی حقوق کے اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری مداخلت کریں اور مغوی افراد کی فوری رہائی کے لیے قابض ریاست پر دباؤ ڈالیں۔
میڈیا آفس نے کہا کہ وہ قابض ریاست کی جانب سے ان جرائم کا اعادہ،طبی اور انسانی ہمدردی کے عملے کو مسلسل نشانہ بنانا، جیسا کہ نسل کشی کی جنگ کے آغاز سے ہمارے ہزاروں فلسطینی عوام پر کیا گیا ہے کے خاتمے کے لیے فوری اور موثر بین الاقوامی اقدام کی ضرورت پر زور دیتا ہے۔