مقبوضہ بیت المقدس (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) مقبوضہ مغربی کنارے میں آبادکاری کے تعمیراتی منصوبوں میں گذشتہ تین ماہ کے دوران اضافہ ہوا ہے، جو کہ 2024 میں قابض حکام کی طرف سے منظور شدہ تعداد سے زیادہ ہے جو کہ 11,315 سیٹلمنٹ یونٹس تک پہنچ گئی ہے۔
اسرائیلی اینٹی سیٹلمنٹ آرگنائزیشن پیس ناؤ کے شائع کردہ اعداد و شمار کے مطابق قابض حکام نے 10,503 سیٹلمنٹ یونٹس کی تعمیر کی منظوری دی ہے، جو کہ 2024 کے دوران منظور شدہ 9,971 یونٹس سے زیادہ ہے۔ مزید 1,344 یونٹس کی منظوری کل بدھ تک دی جائے گی۔
تنظیم نے کہا کہ سپریم پلاننگ کونسل نے گذشتہ تین مہینوں میں 2024 کے تمام منصوبوں سے زیادہ تعمیراتی منصوبوں کی منظوری دی تھی۔ تنظیم نےمنگل کو ایک بیان میں وضاحت کی کہ یکم جنوری سے 19 مارچ 2025 کے درمیان کل 10,503 سیٹلمنٹ یونٹس کی منظوری دی گئی، جو کہ پچھلے سال اس عرصے میں منظور شدہ 9,971 یونٹس سے زیادہ ہیں۔
یہ اہم سرعت پالیسی کی ایک بڑی تبدیلی کے بعد آئی ہے۔ جون 2023ء میں نیتن یاہو-سموٹریچ حکومت نے سیاسی قیادت سے سیٹلمنٹ پلاننگ پر براہ راست نگرانی ہٹا دی۔ اس سے پہلے منظوری کے عمل کے ہر مرحلے میں وزیر دفاع کی منظوری درکار تھی۔
تنظیم نے وضاحت کی کہ نومبر 2024ء میں منصوبہ بندی کی شرح میں نمایاں اضافہ ہوا، کیونکہ منصوبہ بندی بورڈ سہ ماہی اجلاسوں سے ہفتہ وار اجلاسوں میں منتقل ہوا، ہر بار سینکڑوں نوآبادیاتی یونٹس کی منظوری دی گئی۔
پیس ناؤ نے کہا کہ “یہ تبدیلی آبادکاری کی منصوبہ بندی کو معمول پر لانے، مقامی اور بین الاقوامی جانچ پڑتال کو کم سے کم کرنے اور غزہ میں جاری جارحیت کی وجہ سےعالمی توجہ اس طرف متوجہ ہونے سے فایدہ اٹھانے کی حکمت عملی اپنائی گئی ہے‘۔
انہوں نے مزید کہا کہ قابض حکومت مستقبل میں وسیع تر ترقی کے امکان کو یقینی بناتے ہوئے زیادہ سے زیادہ منظور شدہ منصوبوں کے ساتھ “منصوبہ بندی کے ذخائر کو بھرنے” کی کوشش کر رہی ہے۔
تنظیم نے کہا کہ نیتن یاہو-سموٹریچ حکومت تنازع کو گہرا کر رہی ہے اور پرامن حل کے کسی بھی موقع کو کمزور کر رہی ہے، کیونکہ وہ پورے مغربی کنارے میں غیر معمولی پیمانے پر ایسے منصوبوں پر عمل درآمد جاری رکھے ہوئے ہے جس کی بالآخر تمام اسرائیلیوں کو مسلسل تشدد اور بہت زیادہ مالی بوجھ کی صورت میں بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔