غزہ (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی (انروا) کے کمشنر جنرل فلپ لازارینی نے خبردار کیا ہے کہ قابض اسرائیلی حکام غزہ کی پٹی میں رسد کے داخلے کو جان بوجھ کر روک رہے ہیں۔
لازارینی نے اپنے ’ایکس‘ اکاؤنٹ پر کہاکہ “اسرائیلی حکام کی جانب سے غزہ میں سامان کی ترسیل کو روکنے کے تین ہفتے گزر چکے ہیں”۔
انہوں نے مزید کہا کہ ” خوراک، نہ دوائی، نہ پانی، نہ ایندھن،ایک دم گھٹنے والا محاصرہ جو جنگ کے پہلے مرحلے میں تھا”۔
لازارینی نے مزید کہا کہ “ہر دن جو امداد کے بغیر گزرتا ہے اس کا مطلب ہے کہ زیادہ بچے بھوکے سو رہے ہیں، بیماریاں پھیل رہی ہیں، اور محرومی بڑھ رہی ہے”۔
انہوں نے زور دیا کہ “کھانے کے بغیر ہر دن غزہ کو بھوک کے شدید بحران کے قریب لاتا ہے”۔
لازارینی نے اس بات پر زور دیا کہ امداد روکنا غزہ کے عوام کے خلاف اجتماعی سزا ہے۔ کیونکہ غزہ کی آبادی کی اکثریت بچوں، خواتین اور عام مردوں پر مشتمل ہے۔
انروا کے کمشنر جنرل نے ناکہ بندی کو ہٹانے اور انسانی امداد اور تجارتی سامان کی بلاتعطل اور وسیع پیمانے پر داخلے پر زور دیا۔
دو مارچ سے قابض اسرائیلی فوج نے غزہ کی پٹی کے جنوب مشرق میں کارم ابو سالم کراسنگ کو بند کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے، جس سے امداد، سامان اور ایندھن کے داخلے کا عمل تعطل کا شکار ہے۔