غزہ (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) غزہ میونسپلٹی نے کہا ہے کہ شمالی گورنری سے شہریوں کی جبری نقل مکانی گورنری کے لوگوں کو فراہم کردہ خدمات پر منفی اثر ڈال رہی ہے، خاص طور پر مغربی علاقوں اور شہر کے مرکز میں جہاں پانی اور صفائی کی خدمات کی وجہ سے میونسپلٹی پر خاصا دباؤ پڑتا ہے۔
میونسپلٹی نے اتوار کو ایک بیان میں کہا کہ قابض جارحیت اور تباہی کی جنگ نے بڑے پیمانے پر بنیادی ڈھانچے اور خدمات کی سہولیات کو تباہ کر دیا ہے، اور ایک شدید انسانی بحران پیدا کر دیا ہے۔ پانی کی خدمات کی کمی کی وجہ سے گلیوں اور عارضی لینڈ فلز میں فضلہ کی بڑی مقدار کا جمع ہوچکی ہے۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ کچھ اہم سہولیات خالی کرائے گئے علاقوں میں موجود ہیں۔ جن کو قابض فوج کی طرف سے دھمکیوں کانشانہ بنایا جاتا ہے۔
میونسپلٹی نے وسائل کی کمی کی شکایت کی، خاص طور پر پائپ، جنریٹر، ایندھن، مشینری اور اسپیئر پارٹس کی کمی کے ساتھ ساتھ انفراسٹرکچر کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا، جس سے شہریوں کی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے۔
اس نے بین الاقوامی برادری اور تمام بین الاقوامی اور مقامی تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ وہ میونسپلٹی کی کوششوں میں مدد کریں۔ اس کے کام کو جاری رکھنے کے لیے اس کی تمام ضروریات فراہم کریں۔ اسے غزہ شہر کے جنوب میں واقع “جحر الدیک” کے علاقے میں مین لینڈ فل تک رسائی کی اجازت دیں اور سیوریج کے نظام کو بحال کریں۔
غزہ میں سرکاری میڈیا آفس نے آج غزہ کی پٹی کے رہائشیوں کو متاثر کرنے والی ایک بے مثال انسانی آفت سے خبردار کیا ہے، کیونکہ قابض فوج روزانہ کی نسل کشی اور شہریوں کے قتل عام کی اپنی پالیسی جاری رکھے ہوئے ہے۔
گذشتہ منگل کی صبح غزہ کی پٹی پر قابض فوج نے 19 جنوری سے نافذ ہونے والے جنگ بندی معاہدے کے تحت دو ماہ کے وقفے کے بعد دوبارہ جارحیت کا آغاز کیا۔
غزہ میں فلسطینی وزارت صحت کے مطابق قابض فوج نے غزہ کی پٹی کے مختلف مقامات پر اپنی جاحیت جاری رکھی، جس سے 634 فلسطینی شہید اور 1,172 زخمی ہوئے، جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے ہیں۔