واشنگٹن (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) امریکی محکمہ امیگریشن نے فلسطین کے حامی طالب علم کو ملک در کرنے کے لیے خود کو حکام کے حوالے کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالت میں دائر کی گئی گیمبیا نژاد برطانوی طالب علم مومودو تال کے وکلاء کے مطابق ان کے مؤکل کو ایمی گریشن حکام کی طرف سے ایک خط جمعہ کو ای میل کے ذریعے موصول ہوا۔
امریکی امیگریشن اور کسٹمز انفورسمنٹ حکام کی طرف سے بھیجے گئے مکتوب میں اسے خود کو حکام کے حوالےکرنے کا حکم دیا ہے۔ تاکہ اس کی ملک بدری کے حکم پر عمل درآمد کیا جا سکے۔
ممومود تال افریقی علوم میں پی ایچ ڈی کا طالب علم ہے اور اس کے پاس دوہری برطانوی اور گیمبیا کی شہریت ہے، نے غزہ میں اسرائیل کی جانب سے مسلط کی گئی تباہی کی جنگ کے خلاف فلسطینیوں کے حامی مظاہروں میں حصہ لیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حماس کی حمایت اور یہود دشمنی کا الزام لگاتے ہوئے غیر ملکی فلسطینی حامی مظاہرین کو ملک بدر کرنے کا عزم کیا ہے۔
تال کے وکلاء نے اس پیشرفت کو اظہار رائے کی آزادی پر حملہ قرار دیا۔ تال نے اس سے قبل مظاہرین کی ملک بدری کو روکنے کے لیے ایک مقدمہ دائر کیا تھا اور کہا تھا۔
مظاہرین جن میں کچھ یہودی گروپ بھی شامل ہیں کہتے ہیں کہ ان کے ناقدین غلطی سے اسرائیل پر ان کی تنقید اور فلسطینیوں کے حقوق کی حمایت کو یہود دشمنی اور حماس کی حمایت سے جوڑ دیتے ہیں۔
“امریکی امیگریشن اور کسٹمز انفورسمنٹ مسٹر تال اور ان کے وکیل کو دعوت دیتا ہے کہ وہ سائراکیز میں ہوم لینڈ سیکورٹی انویسٹی گیشن کے دفتر میں ایک باہمی رضامندی کے ساتھ حاضر ہونے کا نوٹس دیں اور مسٹر تال کو یو ایس امیگریشن اور کسٹمز انفورسمنٹ کے حوالے کر دیں۔” حکومتی ای میل میں لکھا گیا، جمعہ کو دائر کی گئی میمو کے مطابق خط میں کوئی مخصوص تاریخ شامل نہیں تھی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے گذشتہ سال نیویارک میں کولمبیا یونیورسٹی کیمپس میں فلسطین کے حامی مظاہروں کے ایک سرکردہ رکن فلسطینی طالب علم محمود خلیل کو حراست میں لے لیا اور حماس کی حمایت کا الزام لگاتے ہوئے اسے ملک بدر کرنے کا عزم کیا۔
امریکی محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی نے جارج ٹاؤن یونیورسٹی کے پوسٹ ڈاکٹریٹ محقق بدر خان سوری کو بھی حراست میں لے لیا۔ جو امریکی طالب علم ویزا کے ساتھ ہندوستانی شہری ہے۔ محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کی ترجمان ٹریسیا میک ایلوی نے ان پر “حماس کا پروپیگنڈا پھیلانے اور سوشل میڈیا پر یہود دشمنی کو فروغ دینے” کا الزام لگایا۔