Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

Palestine

مارچ کے آغاز سے غزہ میں کوئی امداد نہیں پہنچی:اونروا

جنیوا  (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی برائے فلسطینی پناہ گزین(یو این آر ڈبلیو اے) نے کہا ہے کہ قابض اسرائیل نے مارچ کے آغاز سے غزہ کی پٹی میں کسی قسم کی امداد کی اجازت نہیں دی ہے۔ یہ اکتوبر 2023ء کے بعد سے بغیر امداد کے طویل ترین دورانیہ ہے۔

غزہ میں UNRWA کے آپریشنز کے ڈپٹی ڈائریکٹر سام روز نے جمعہ کو سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں اقوام متحدہ کے دفتر کی ہفتہ وار پریس کانفرنس کے دوران اس بات کی تصدیق کی کہ غزہ پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کے بعد شدید گولہ باری ہوئی ہے۔

روز نے وضاحت کی کہ ان حملوں کے نتیجے میں بہت سے لوگ شہید ہوئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جاری اسرائیلی انخلاء کے مطالبات نے رہائشیوں کو بڑے پیمانے پر نقل مکانی پر مجبور کیا۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ بمباری نے خدمات کو درہم برہم کر دیا ہے۔ لوگوں کے لیے امداد کی تقسیم کے مراکز اور ہسپتالوں تک رسائی مشکل ہو گئی ہے۔

اقوام متحدہ کے اہلکار نے کہا کہ چھ ہفتے کی جنگ بندی کے دوران ہونے والی پیش رفت کو الٹ دیا گیا ہے۔ اگر جنگ بندی پر عمل نہ کیا گیا تو اس کا مطلب بڑے پیمانے پر جانی نقصان ہوگا۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ غزہ کی پٹی میں تباہی کی جنگ جاری رہنے کا مطلب بنیادی ڈھانچے اور املاک کی تباہی، متعدی بیماریوں کا بڑھتا ہوا خطرہ اور غزہ میں رہنے والے 20 لاکھ شہریوں کے لیے زبردست نفسیاتی صدمہ ہے، جن میں 10 لاکھ بچے بھی شامل ہیں۔

روز نے اس بات پر زور دیا کہ جنگ بندی کے چھ ہفتوں کے دوران’انروا‘ پچھلے چھ مہینوں کے مقابلے غزہ کو زیادہ امداد پہنچانے میں کامیاب رہی، مگر اب صورت حال ابتر ہے۔

رمضان المبارک کی آمد اور مسلمانوں کے لیے اس کے تقدس کے باوجود قابض ریاست نے غزہ کی پٹی میں گذشتہ منگل کی صبح اپنی نسل کشی پر مبنی جارحیت دوبارہ شروع کر دی۔ 75 روزہ جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کوتوڑنے کے بعد پٹی میں قابض فوج نے زمینی کارروائیاں شروع کرنے کا اعلان کیا۔

سرکاری میڈیا آفس کے ایک بیان کے مطابق قابض اسرائیلی فوج نے شہریوں کو نشانہ بناتے ہوئے پرتشدد فضائی حملوں کے ذریعے نسل کشی کے اپنے جرائم تیز کردیے، جس کے نتیجے میں 591 فلسطینی شہید اور 1,042 زخمی ہوئے، جن میں سے 70 فیصد بچے، خواتین اور بوڑھے تھے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan