رام اللہ (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قابض اسرائیلی حکام نے 14 فلسطینی ماؤں سے ان کی آزادی اور بچے چھین کرانہیں پابند سلاسل رکھا ہوا ہے۔وہ ان 25 فلسطینی خواتین قیدیوں میں شامل ہیں جو جیلوں میں انتہائی مشکل اور اذیت ناک حالات میں صہیونی عقوبت خانوں میں تشدد سے دوچار ہیں۔
فلسطینی محکمہ امور اسیران، کلب برائے اسیران، ضمیر ایسوسی ایشن نے جمعرات کو مدرز ڈے کے موقع پر ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ حالیہ عرصہ فلسطینی خواتین کے لیے خونی اور سفاک ترین مہینوں میں سے ایک رہا ہے۔
تینوں تنظیموں نے وضاحت کی کہ خلاف ورزیوں میں منظم طریقے سے اضافہ ہوا ہے، خاص طور پر فلسطینی عوام کے خلاف جاری وحشیانہ جارحیت اور نسل کشی کی جنگ میں فلسطینی ماؤں کو بے پناہ اذیتوں کا سامنا کرنا پڑا۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ قابض حکام نسل کشی کی جنگ کے پہلے دنوں سے ہی وسیع پیمانے پر گرفتاری کی مہم چلا رہے ہیں، جن میں خواتین اور ماؤں سمیت دسیوں ہزار شہریوں کو نشانہ بنایا گیا۔
بیان کے مطابق خواتین کی گرفتاریوں کا سب سے زیادہ تناسب 7 اکتوبر 2023 کی نسل کشی کی جنگ کے بعد ریکارڈ کیا گیا، جب قابض حکام نے تقریباً 500 فلسطینی خواتین کو گرفتار کیا، جن میں مائیں اور دیگرخواتین بھی شامل تھیں، جنہیں خاندان کے کسی فرد پر ہتھیار ڈالنے کے لیے دباؤ ڈالنے کی خاطر یرغمال بنایا گیا تھا۔
لامتناہی اذیت
بیان میں کہا گیا ہے کہ فلسطینی ماں کا المیہ اس لمحے سے شروع ہوتا ہے جب قابض فوج اس کے گھر پر دھاوا بولتی ہے، اکثر رات کے آخری پہر، جہاں اسے اس کے بچوں کی چیخ و پکار اور ان کی آنکھوں کے سامنے جان بوجھ کر زیادتی کے مناظر کے درمیان بندوق کی نوک پر اس کے بچوں سے ماں کو چھین لیا جاتا ہے۔
اس کے بعد گرفتار خاتون کو سخت اور اذیت ناک حالات میں منتقل کیا جاتا ہے ۔پوچھ گچھ کے عمل کے دوران ان کی منظم تذلیل کی جاتی ہے وہاں خواتین قیدیوں کو نسل کشی کی جنگ کے آغاز سے ہی خاندان سے ملنے سے بھی انکار کیا جاتا ہے۔
تفتیشی اور حراستی مراکز
ان کی گرفتاری کے بعد خواتین قیدیوں کو قابض فوج کے تفتیشی مراکز میں منتقل کیا جاتا ہے، جہاں ان سے سخت پوچھ گچھ اور تفتیش کے پرتشدد طریقوں کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ انہیں طویل عرصے تک غیر انسانی حالات میں کھڑے رہنے پر مجبور کیا جاتا ہے، انہیں نیند اور خوراک سے محروم رکھا جاتا ہے اور ہر قسم کے تشدد کی مسلسل دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ بہت سی خواتین قیدیوں کو اپنے وکلاء تک رسائی سے محروم کر دیا جاتا ہے، جس سے ان کی تکالیف بڑھ جاتی ہیں اور ان کی جسمانی اور نفسیاتی صحت پر طویل مدتی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
الدامون جیل: ظالمانہ اور غیر انسانی حراستی حالات
قابض فوج دیمون جیل میں خواتین قیدیوں کی اکثریت کو حراست میں رکھتی ہے، جسے فلسطینی خواتین کے لیے سب سے نمایاں حراستی مراکز میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔
اس جیل میں خواتین قیدیوں کو سخت حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو 7 اکتوبر 2023ء کے بعد سے مشکل تر ہوتے جا رہے ہیں، خاص طور پر اس کے بعد کے ہفتوں میں ان کو قید تنہائی اور ظالم فوجی جلادون کے ذریعے بدسلوکی کا نشانہ بنایا گیا۔
ان جاری خلاف ورزیوں کے ایک حصے کے طور پرجیل انتظامیہ نے قیدیوں کو بھوکا پیاسا رکھنے کی مجرمانہ پالیسی پر عمل درآمد کیا ہے، جس کے تحت خواتین قیدیوں کو دوسرے مرد قیدیوں کی طرح کینٹین سے کھانا خریدنے اور انہیں وہ کھانا فراہم کرنے سے روک دیا گیا ہے۔
مزید برآں جیل میں قیدیوں کی زیادہ تعداد نے خواتین قیدیوں کی تکالیف کو بڑھا دیا، کیونکہ بہت سےخٰواتین کو کپڑوں اور کمبلوں کی شدید قلت میں ننگے فرش پر سونے پر مجبور کیا گیاجاتا ہے۔یہ تشدد سرد موسم کی وجہ سے مزید بڑھ گیا تھا، کیونکہ کچھ خواتین قیدیوں کو وہی لباس پہننے پر مجبور کیا گیا تھا جس میں وہ طویل عرصے تک بغیر تبدیلی کے زیر حراست تھیں۔
مسلسل تکلیف اور علاج سے محرومی
قابض دشمن کی جیلوں میں خواتین اور مرد قیدیوں کے خلاف طبی جرائم کئی دہائیوں سے جاری انسانی حقوق کی پالیسی کی تشکیل کرتے ہیں۔ بہت سی خواتین قیدیوں کو دائمی بیماریوں یا دوران حراست زخمی ہونے کے باوجود ضروری طبی دیکھ بھال تک رسائی سے محروم کیا جاتا ہے۔
قیدیوں کے حقوق کی تنظیموں کے مطابق خواتین قیدیوں کو ضروری ادویات سے انکار کیا جاتا ہے، اور کچھ کو علاج حاصل کرنے میں شدید تاخیر کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس سے ان کی صحت خراب ہوتی ہے۔
خواتین قیدیوں میں سے کم از کم ایک تین ماہ کی حاملہ ہے جو دو بچیوں کی ماں ہے۔ انہیں جان بوجھ کر طبی غفلت کی وجہ سے صحت کی مشکل سے دوچار
کیا گیا ہے۔