غزہ (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اسلامی تحریک مزاحمت ’ حماس‘ نے کہا ہے کہ غزہ پر قابض اسرائیلی جارحیت کے بعد براہ راست سیاسی اور اخلاقی ذمہ داری عرب لیگ اور اسلامی تعاون تنظیم ’او آئی سی‘ پر عائد ہوتی ہے کہ وہ پوری دنیا کے سامنے ہونے والی نسل کشی کو روکیں۔
مرکزاطلاعات فلسطین کو موصول ہونے والی ایک پریس ریلیز میں حماس نے عرب اور مسلمان ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بین الاقوامی فورمز بالخصوص اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں فوری حرکت میں آئی کریں اور فلسطینی عوام کے خلاف جارحیت اور نسل کشی کو روکنے کے لیے فوری اقدامات کریں۔
حماس نے عرب اور مسلمہ اقوام اور دنیا بھر کے زندہ ضمیر لوگوں سے امریکی انتظامیہ کی قیادت میں مجرم قابض ریاست اور اس کے حامیوں پر دباؤ ڈالنے کے لیے تمام میدانوں میں کارروائی کرنے اورفلسطینی عوام کی اس وقت تک ہر طرح سے حمایت کرنے کی اپیل کی ہے جب تک کہ جارحیت کو روکا نہ جائے اور فلسطینی آزادی اور حق خود ارادیت کے حصول کی منزل حاصل نہ کرلیں۔
دوسری طرف غزہ میں سرکاری میڈیا آفس نے تصدیق کی کہ غزہ پر اسرائیلی جارحیت سے گذشتہ 72 گھنٹوں کے دوران شہداء کی تعداد 591 ہو گئی ہے۔
فلسطینی انفارمیشن سینٹر کو موصول ہونے والی ایک پریس ریلیز میں، سرکاری میڈیا اہلکار نے وضاحت کی کہ قابض اسرائیلی فوج نے منگل کی صبح سے غزہ کی پٹی میں سیکڑوں افراد کا قتل عام کیا ہے، جس میں براہ راست اور بغیر کسی وارننگ کے شہریوں کے گھروں کو نشانہ بنایا گیا ہے، جس کے نتیجے میں 591 فلسطینی شہید اور سیکڑوں زخمی ہوچکے ہین۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ متاثرین کی ایک نامعلوم تعداد ملبے کے نیچے دبی ہوئی ہے۔ امدادی ٹیمیں ایندھن کی کمی اور سول ڈیفنس کے آلات کے مفلوج ہونے کی وجہ سے انہیں نکالنے میں ناکام ہیں۔