رام اللہ (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) فلسطینی کلب برائے امور اسیران نے کہا ہے کہ ہتھکڑیوں بیڑیوں کا مسئلہ اسرائیلی جیلوں کے نظام کی طرف سے قیدیوں کے ساتھ بدسلوکی اور تشدد کے لیے استعمال کیے جانے والے سب سے نمایاں طریقوں میں سے ایک ہے۔
فلسطینی اسیران کلب کی طرف سے جاری ایک بیان کی نقل مرکزاطلاعات فلسطین کو موصول ہوئی بیان میں مزید کہا ہے کہ “گانوت جیل جسے ماضی میں نفحہ نفحہ اور رامون جیلوں کے نام سے جانا جاتا تھا کی انتظامیہ نے حال ہی میں ’یماز ‘یونٹوں کے اہلکاروں کے ساتھ مل کر جیل میں پرتشدد کارروائیاں کیں، قیدیوں پر حملہ کیا اور انہیں سختی سے باندھا۔ ان کے پاؤں میں بیڑیاں ڈالیں اور ہاتھوں میں ہتھکڑیاں اس شدت کے ساتھ لگائیں کہ ہاتھوں اور پاؤں سے خٰون بہنے لگا۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ “قابض فوج نے سیکشن کے اندر صوتی بم برسائے۔ یہ پرتشدد جارحیت قیدیوں کو نشانہ بنانے کے سیکڑوں پرتشدد حربوں میں سے ایک حربہ ہے۔
کلب برائے اسیران نے کہا ہے کہ “قیدیوں پر کنٹرول سخت کرنے اور ان پر تشدد کرنے کے لیے مختلف جیلوں میں جبر کی کارروائیاں تیز رفتاری سے کی جا رہی ہیں۔ ساؤنڈ بموں، ربڑ کی گولیوں اور پولیس کتوں کے استعمال میں اضافہ دیکھا گیا ہے”۔
انہوں نے کہا کہ “ہتھکڑیوں کا مسئلہ جیل کے نظام کی طرف سے قیدیوں کے ساتھ بدسلوکی اور اذیت دینے کے لیے استعمال کیے جانے والے سب سے نمایاں حربوں میں سے ایک ہے۔ ان پر تشدد کرنے کے لیے استعمال کیے جانے والے بہت سے دوسرے حربے بھی ہیں”۔
غزہ کی پٹی میں تباہ کن جنگ کے آغاز کے بعد سے اسرائیلی فوج اور آباد کاروں نے بیت المقدس سمیت مغربی کنارے میں اپنے حملوں میں اضافہ کیا ہے، جس کے نتیجے میں 937 سے زائد فلسطینی شہید تقریباً 7000 افراد زخمی اور 15,700 دیگر کو گرفتار کیا گیا۔
سات اکتوبر 2023ء سے اسرائیل نے امریکی حمایت کے ساتھ غزہ میں نسل کشی کا ارتکاب جاری رکھا ہوا ہے جس میں بڑے پیمانے پر تباہی کے علاوہ 162,000 سے زیادہ فلسطینی شہید اور زخمی کیے جا چکے ہیں۔ان میں زیادہ تر بچے اور خواتین ہیں۔14,000 سے زیادہ لاپتہ ہیں۔