صنعاء (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) امریکی طیاروں نے ایک بار پھر صعدہ اور حجہ گورنری سمیت یمن میں مقامات پر نئے حملے شروع کیے۔ دوسری جانب یمنی فورسز نے امریکی طیارہ بردار بحری جہاز پر حملہ کیا ہے۔
صبا نیوز ایجنسی اور المسیرہ ٹی وی نے اطلاع دی ہے کہ “امریکی جارحیت نے صعدہ گورنری کے مجز ضلع میں تکیہ کے علاقے کو نشانہ بنایا۔ خبررساں ایجنسی ’اے ایف پی‘ عینی شاہدین کے حوالے سے کہا کہ صعدہ کو “تین حملوں” کا نشانہ بنایا گیا۔
المسیرہ ٹی وی نے اطلاع دی ہے کہ امریکی فضائی حملوں نے شمال مغربی یمن میں حجہ گورنری کے ضلع میدی میں بوہیس کے علاقے کو بھی نشانہ بنایا۔
دریں اثنا، یمنی مسلح افواج کے ترجمان یحیی سریع نے آج رات اعلان کیا کہ مسلح افواج نے 72 گھنٹوں میں چوتھی بار امریکی طیارہ بردار بحری جہاز USS ہیری ٹرومین کے خلاف کئی کروز میزائلوں اور ڈرونز کا استعمال کرتے ہوئے آپریشن کیا ہے۔
سریع نے یمن پر ایک فضائی حملے کو ناکام بنانے میں آپریشن کی کامیابی کی تصدیق کی۔ انہوں نے مزید کہا کہ غزہ پر جارحیت کے خاتمے تک صہیونی دشمن کے خلاف اپنی کارروائیوں کو تیز کرتا رہے گا۔اس نے اس بات پر زور دیا کہ “امریکی جارحیت انصاراللہ کو فلسطینی عوام کے حوالے سے اپنی مذہبی، اخلاقی اور انسانی ذمہ داریوں کی ادائیگی سے نہیں روکے گی۔”
قابض اسرائیلی فوج نے کل شام منگل کو اعلان کیا کہ اس نے “یمن سے میزائل داغے جانے کے بعد جنوبی اسرائیل کے کئی علاقوں میں فضائی حملے کے سائرن کو چالو کر دیا ہے”۔
اس کے نتیجے میں یمنی مسلح افواج نے اعلان کیا کہ انہوں نے ایک ہائپرسونک بیلسٹک میزائل سے اسرائیلی نیواتیم ایئر بیس کو نشانہ بنایا۔ ایک ٹیلیویژن بیان میں مسلح افواج نے کہاکہ “ہم نے فلسطین 2 ہائپرسونک بیلسٹک میزائل کے ذریعے مقبوضہ فلسطین میں نیواتیم ایئر بیس کو نشانہ بنانے کا آپریشن کیا، اور یہ آپریشن کامیابی سے حاصل ہوا‘‘۔
انہوں نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ آنے والے گھنٹوں اور دنوں میں اسرائیل میں اہداف کا دائرہ وسیع کیا جائے گا اور ہمارے حملے اس وقت تک جاری رہیں گے جب تک غزہ کی پٹی پر جارحیت بند نہیں ہوتی۔
انصاراللہ کے سربراہ عبدالمالک الحوثی نے کہا ہے کہ اسرائیل غزہ میں “خوفناک جرائم، بھوک اور نسل کشی” کرنے کے لیے امریکی شراکت پر انحصار کرتا ہے۔
المسیرہ ٹی وی پر نشر ہونے والی ٹیلی ویژن تقریر میں الحوثی نے کہا کہ “امریکیوں کے ساتھ ساتھ اسرائیلی دشمن بھی غدار اور مجرم ہیں اور اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کرتے۔ یہ ان لوگوں کے لیے بہت بڑا سبق ہے جو ان کے ساتھ معاہدوں پر شرط رکھتے ہیں”۔