غزہ (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) فلسطین کی اسلامی جہاد موومنٹ نے کہا ہے کہ جنگی مجرم بنجمن نیتن یاہو اور ان کی حکومت کا غزہ کی پٹی میں ہمارے لوگوں کے خلاف دوبارہ جارحیت شروع کرنے کا اعلان جنگ بندی تک پہنچنے کی تمام کوششوں کو جان بوجھ کر سبوتاژ کرنے کے بعد پوری دنیا کی آنکھوں کے سامنے تباہی کی جنگ کے حصے کے طور پر مزید قتل عام کرنے کی کوشش ہے۔
اسلامی جہاد تحریک نے منگل کو ایک بیان میں مزید کہا کہ “یہ نئی جارحیت دشمن کو مزاحمت پر بالادستی نہیں دے گی، نہ زمین پر اور نہ ہی مذاکرات میں۔ یہ نیتن یاہو اور اس کی خونخوار نازی حکومت کو ان بحرانوں سے نہیں نکال سکے گی جن سے وہ بچنے کے لیے باربار غزہ میں قتل عام کا سہارا لینے کی کوشش کررہا ہے۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ نیتن یاہو اور اس کی وحشی فوج پندرہ مہینوں کے جرائم اور خونریزی کے بعد جو کچھ حاصل کرنے میں ناکام رہی۔ وہ ہمارے مظلوم عوام کی استقامت اور جہاد اور مزاحمت کے میدانوں میں ہمارے مجاہدین کی بہادری کی بدولت دوبارہ بھی رسوائی کے سوا کچھ حاصل نہیں کرسکے گی۔
قابض سرائیلی قابض فوج کی طرف سے منگل کی صبح غزہ کی پٹی میں بیک وقت بڑے پیمانے پر جارحیت شروع ہوئی جس کے نتیجے میں درجنوں شہری شہید اور سینکڑوں زخمی ہو گئے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے نامہ نگاروں نے اطلاع دی ہے کہ قابض اسرائیلی طیاروں نے غزہ کی پٹی کے مختلف علاقوں پر وسیع پیمانے پر حملے کیے، جس میں 18 ماہ سے جاری نسل کشی کی جنگ دوبارہ شروع ہوئی، جس کے نتیجے میں صرف خان یونس میں 70 سے زائد افراد سمیت 131 سے زائد شہید ہوئے۔