دوحہ (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ کے رہنما اسامہ حمدان نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ کے لیے امریکی صدارتی ایلچی اسٹیون وٹ کوف کی تجویز قیدیوں کے تبادلے تک محدود ہے اور اس میں جنگ بندی، کراسنگ کھولنے یا ناکہ بندی ختم کرنے کی بات نہیں کی گئی، انہوں نے زور دے کر کہا کہ زیرو پوائنٹس پر واپسی ناقابل قبول ہے۔
حمدان نے میڈیا کے بیانات میں وضاحت کی کہ وٹکوف کی تجویز میں جنگ بندی کے معاہدے سے نکلنے کے لیے آئیڈیاز پیش کیے گئے اور اسے صرف قیدیوں کے تبادلے تک محدود رکھا گیا۔
الجزیرہ کے مطابق حماس کے رہنما نے کہا کہ جس چیز کی ضرورت ہے وہ گزشتہ جنوری میں اعلان کردہ جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کی طرف واپسی ہے، یا اسرائیلی دہری شہریت کے قیدی کی رہائی کے لیے تحریک کی تجویز کو قبول کرنا ہے۔
اس تناظر میں حمدان نے کہا کہ امریکہ ہی نے اسرائیلی فوجی کی رہائی کی تجویز پیش کی تھی، جس کے پاس امریکی شہریت ہے۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ غزہ کی پٹی کی ناکہ بندی، فاقہ کشی اور کراسنگ کی بندش “فلسطینی عوام کے لیے قابل قبول نہیں ہو سکتی۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حماس کا موقف واضح ہے کہ وہ معاہدے کی پاسداری اور اس سلسلے میں کچھ رعایتیں فراہم کرنے پر آمادہ ہے۔تحریک ہر اس اقدام کو نافذ کرنے کے لیے تیار ہے جس سے معاہدے کے نفاذ میں سہولت ہو۔
انہوں نے کہا کہ ثالث ممالک اسرائیل کو معاہدے کے دوسرے مرحلے میں داخل ہونے کے لیے دباؤ ڈالنے میں ناکام رہے اور واشنگٹن بھی اسرائیل پر مذاکرات کے دوسرے مرحلے میں داخل ہونے کے لیے دباؤ ڈالنے میں ناکام رہا ہے۔
حمدان نے اس بات کا اعادہ کیا کہ حماس نے معاہدے کی شرائط سے انحراف نہیں کیا ہے اور وہ فلسطینی عوام کے مفادات کے پیش نظر اس کی پاسداری کے لیے پرعزم ہے۔