صنعاء (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) امریکی فوج نے یمن کے خلاف اپنی جارحیت کو مسلسل دوسرے روز بھی جاری رکھتے ہوئے صنعا پر فضائی حملے کیے جب کہ یمن کی انصار اللہ تنظیم نے 24 گھنٹوں میں دوسری بار امریکی طیارہ بردار بحری جہاز “ہیری ایس ٹرومین” کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایک ویڈیو جاری کی ہے جس میں دکھایا گیا ہے کہ امریکی لڑاکا طیاروں کو یمن میں انصار اللہ کے ٹھکانوں پر حملے کرنے کے لیے طیارہ بردار بحری جہاز سے اڑان بھرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
قبل ازیں انصار اللہ گروپ سے وابستہ ذرائع ابلاغ نے اطلاع دی تھی کہ دو امریکی فضائی حملوں نے پیر کی صبح مغربی یمن کے الحدیدہ کے ضلع زبید میں کاٹن جننگ پلانٹ کو نشانہ بنایا۔ ایک اور فضائی حملے میں شمال مشرقی یمن کے الجوف گورنری کے ضلع الحزم میں ایک سرکاری کمپلیکس کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
حوثی تحریک کے ترجمان نے اعلان کیا کہ انہوں نے 24 گھنٹوں میں دوسری بار امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ہیری ٹرومین کو شمالی بحیرہ احمر میں متعدد بیلسٹک اور کروز میزائلوں اور ڈرونز کے ساتھ نشانہ بنایا۔ ترجمان نے کہا کہ وہ اسرائیلی بحری جہازوں کو بحیرہ احمر کی طرف جانے سے روکے گا۔
گروپ نے پیر کے اوائل میں ایک بیان میں کہا کہ وہ یمن پر “دشمن کے حملے کو ناکام بنانے میں کامیاب ہو گیا ہے”۔ اس نے مزید کہا کہ امریکی فوجی طیاروں کو طیارہ بردار بحری جہاز اور اس کے متعدد جنگی جہازوں پر متعدد میزائل اور ڈرون داغے جانے کے بعد “جہاں سے انہوں نے اڑان بھری تھی” واپس جانے پر مجبور کیا تھا۔
تاہم ایسوسی ایٹڈ پریس نے ایک امریکی اہلکار کے حوالے سے بتایا کہ امریکی لڑاکا طیاروں نے یمنی ڈرون کو روکا، جب کہ ایک میزائل طیارہ بردار بحری جہاز “ہیری ایس ٹرومین” سے بہت دور گرا۔
بیان میں امریکہ کی مجرمانہ جارحیت کا مقابلہ کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔