غزہ (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ نے کہا کہ اس نے امریکی شہریت رکھنے والے اسرائیلی فوجی ایڈان الیگزینڈر اور چار دیگر دوہری شہریت کے حامل چار قیدیوں کی لاشوں کی حوالگی پر رضامندی ظاہر کی ہے، جو کہ ثالثوں کی جانب سے مذاکرات کو دوبارہ شروع کرنے کی تجویز کے تحت پیش کی گئی ہے۔
یہ منظوری اس وقت ملی جب حماس کو ثالثوں کی طرف سے ایک تجویز موصول ہوئی۔حماس نے جمعہ کی صبح اپنا جواب جمع کرانے سے پہلے ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے مثبت جواب دینے کا فیصلہ کیا۔
فلسطینی مرکز برائے انسانی حقوق کی طرف سے موصول ہونے والے ایک بیان میں حماس نے مذاکرات شروع کرنے اور دوسرے مرحلے کے مسائل پر ایک جامع معاہدے تک پہنچنے کے لیے اپنی مکمل تیاری کا اعادہ کیا۔ قابض کو اپنی ذمہ داریوں کو مکمل طور پر نافذ کرنے پر مجبور کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
قابل ذکر ہے کہ فلسطینی مزاحمت کے زیر حراست باقی قیدیوں میں سے پانچ امریکی شہریت کے حامل ہیں جن میں ایڈن الیگزینڈربھی شامل ہے۔
قطری دارالحکومت میں امریکہ کے مشرق وسطیٰ کے ایلچی اسٹیون وِٹکوف اور ایک اسرائیلی تکنیکی وفد کی شرکت کے ساتھ گہرے مذاکرات ہو رہے ہیں۔
حماس نے بدھ کے روز جنگ بندی کے مذاکرات کے نئے دور کے آغاز کا اعلان کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ وہ امریکی ایلچی کے ساتھ جاری مذاکرات سمیت ذمہ داری اور مثبت انداز میں ان سے رابطہ کر رہی ہے۔