نیو یارک (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اقوام متحدہ کے انسانی امور اور ایمرجنسی ریلیف کوآرڈینیٹر (اوچا) کے انڈر سیکرٹری ٹام فلیچرنے خبردار کیا کہ غزہ کی پٹی میں خوراک کا اسٹاک تیزی سے ختم ہو رہا ہے، جہاں اسرائیلی قابض حکام 2 مارچ سے انسانی امداد کے داخلے پر پابندی عاید کررکھی ہے۔
فلیچر نے جمعرات کو ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ 19 جنوری کو غزہ میں جنگ بندی کے نفاذ کے بعد “ان چھ ہفتوں کے دوران ہم نے اس پٹی کے لوگوں کو کھانا کھلانے، ادویات کی فراہمی اور ہسپتالوں کو دوبارہ کھولنے میں زبردست پیش رفت کی، لیکن اب گیارہ دنوں سے علاقے میں کچھ بھی داخل نہیں ہوا ہے”۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ امداد کی اشد ضرورت والے شہریوں تک پہنچنے سے روکنے کے لیے گیارہ دن پہلے ہی بہت طویل ہیں۔ امدادی رسد بہت تیزی سے ختم ہو رہی ہے۔
اقوام متحدہ کے انڈر سکریٹری جنرل برائے انسانی امور نے کہا کہ “ایندھن کی فراہمی میں ناکامی کا مطلب ہےصورت حال جلد ایک بار پھر انسانی بحران میں بدل جائے گی”۔
یاد رہے کہ دو مارچ کو قابض اسرائیلی نے غزہ کی پٹی میں انسانی امداد کے داخلے کو روکنے اور کراسنگ غیر معینہ مدت کے لیے بند کر دی تھیں۔