غزہ (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) ڈاکٹروں کی عالمی تنظیم ’میڈسین سانس فرنٹیرئر‘ (ایم ایس ایف) نے قابض اسرائیل کی جانب سے غزہ کی پٹی کی ناکہ بندی کی شدید مذمت کرتے ہوئے جنگ سے تباہ حال فلسطینی علاقے میں فوری امداد کی فراہمی کی بحالی پر زور دیا ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ غزہ کی بجلی بند کرنا ناقابل قبول جرم ہے۔
خیال رہے کہ قابض ریاست نے9 مارچ کو غزہ کی بجلی کی سپلائی منقطع کر کے آبادی کو بنیادی خدمات اور پانی تک رسائی سمیت اہم سپلائیز سے محروم کر دیا ہے۔
تنظیم نے کہا کہ اسرائیلی حکام نے انسانی ضروریات کو ایک سودے بازی کی چپ بنا دیا ہے، جیسے کہ پٹی کو بجلی کی سپلائی بند کرنا اور تمام امداد کے داخلے کو روکنا بلیک میلنگ ہے۔
اس نے اس پالیسی کو فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا جو کہ اجتماعی سزا کے مترادف ہے۔
’ایم ایس ایف‘ نے اسرائیلی حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی انسانی قانون کا احترام کریں۔ ایک قابض طاقت کے طور پر اپنی ذمہ داریوں کی پاسداری کریں اور غزہ کی پٹی کی اس غیر انسانی ناکہ بندی کو ختم کریں۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ اسرائیل کے اتحادیوں نے جان بوجھ کر بین الاقوامی انسانی قانون کی اس سنگین خلاف ورزی کو نظر انداز کیا ہے اور اس رویے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ انہوں نے امریکہ سے مطالبہ کیا کہ وہ ان اقدامات سے باز آئے اور غزہ کو مزید تباہی میں ڈوبنے سے روکنے کے لیے فیصلہ کن کارروائی کرے۔
ایم ایس ایف نےکہا کہ “ایک بار پھر اسرائیلی حکام معمول کے مطابق امداد کو مذاکراتی ٹول کے طور پر استعمال کر رہے ہیں”۔ MSF کے ایمرجنسی کوآرڈینیٹر نے کہا کہ “یہ انسانی امداد کو کبھی بھی جنگ میں سودے بازی کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے اور لامحالہ ہزاروں لوگوں کو نقصان پہنچایا جائے‘‘۔
انہوں نے کہا کہ “جنگ بندی کو انسانی بنیادوں پر بڑھتے ہوئے ردعمل میں دیکھا جانا چاہیے لیکن اسرائیلی حکام نے جنگ بندی کے بجائے غزہ کے لوگوں کی ہر طرح کی امداد روک دی ہے۔”
انہوں نے کہا کہ 27 فروری کو MSF کی ٹیمیں جو آخری سامان غزہ میں لانے میں کامیاب ہوئیں وہ تین ٹرک تھے، جن میں زیادہ تر طبی سامان تھا۔ ناکہ بندی سے قبل مزید کئی ٹرک پٹی میں داخل ہونے والے تھے۔
ایم ایس ایف کی ٹیمیں غزہ میں اپنے ردعمل کو بڑھا رہی ہیں، خاص طور پر شمالی غزہ میں اپنی خدمات انجام دے رہی ہیں جہاں لوگ مہینوں سے بنیادی ضروریات سے محروم ہیں۔