واشنگٹن (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) امریکی کانگریس کے ارکان اور سول سوسائٹی کی تنظیموں نے پیر کے روز کولمبیا یونیورسٹی میں فلسطینی کارکن محمود خلیل کی گرفتاری کی مذمت کی ہے۔ ان کی گرفتاری فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے ہونے والے مظاہروں کی قیادت کی وجہ سے عمل میں لائی گئی ہے۔
امریکی ایوان نمائندگان کے کچھ ارکان اور سول سوسائٹی کی تنظیموں نے اس کی گرفتاری کو “آئین کی طرف سے ضمانت دی گئی آزادی اظہار کی خلاف ورزی”
قرار دیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز کولمبیا یونیورسٹی میں احتجاجی مظاہروں کی قیادت کرنے والے فلسطینی کارکن اور طالب علم محمود خلیل کی گرفتاری کا اعلان کرتے ہوئے اسی طرح کی دیگر گرفتاریوں اور قیدیوں کو ملک بدر کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔
ڈیموکریٹک رکن کانگریس رشیدہ طلیب نے ایک بیان میں خلیل کی گرفتاری کو “آزادی اظہار پر حملہ” قرار دیتے ہوئے اس کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ “محمود خلیل کو رہا کرو۔ یہ اظہار رائے کی آزادی پر حملہ ہے اور اختلاف رائے کو مجرم بنانے کی کوشش ہے۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ ان کی گرفتاری ان آرٹیکلز کی “خلاف ورزی” ہے جو آئین میں اظہار رائے کی آزادی کو متعین کرتے ہیں۔
اپنی طرف سے ڈیموکریٹک رکن کانگریس الیگزینڈریا اوکاسیو کورٹیز نے ایک بیان میں خبردار کیا کہ یہ گرفتاری ایک خطرناک مثال قائم کر سکتی ہے۔
اتوار کو امریکی حکام نے فلسطینی طالب علم محمود خلیل کو گرفتار کر لیا، جس نے کولمبیا یونیورسٹی میں گزشتہ سال اسرائیل کے خلاف مظاہروں کی قیادت کی تھی۔
خلیل کی اٹارنی ایمی گریر نے ایک بیان میں تصدیق کی کہ خلیل کو “گرین کارڈ مستقل رہائشی” کے طور پر امریکہ میں رہنے اور ایک امریکی خاتون سے شادی کرنے کے باوجود گرفتار کیا گیا اور اس کا گرین کارڈ منسوخ کر دیا گیا۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے خلیل کی تصویر کے ساتھ’ایکس‘ پلیٹ فارم پر ایک پوسٹ میں کہاکہ “ہم امریکہ میں حماس کے حامیوں کے ویزے یا گرین کارڈ منسوخ کر دیں گے تاکہ انہیں ملک بدر کیا جا سکے”۔
گذشتہ جنوری میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے “یہود دشمنی کا مقابلہ کرنے” سے متعلق ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے، جس سے فلسطینیوں کی حمایت میں مظاہروں میں شرکت کرنے والے طلباء کو ملک بدر کرنے کی اجازت دی گئی۔
امریکی حمایت کے ساتھ اسرائیل نے 7 اکتوبر 2023 ءسے 19 جنوری 2025ء کے درمیان غزہ میں نسل کشی کی، جس کے نتیجے میں 160,000 سے زیادہ فلسطینی شہید اور زخمی ہوئے، جن میں زیادہ تر بچے اور خواتین تھیں اور 14,000 سے زیادہ لاپتہ ہوئے۔