مقبوضہ بیت المقدس (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) پیر کے روز قابض اسرائیلی عدالت نے بیت المقدس کے علاقے عیساویہ سے تعلق رکھنے والے دو فلسطینی قیدیوں محمد محیسن اور محمد مصطفیٰ کے خلاف بلاجواز سزائیں سنائیں۔ ان میں سے ایک کو ساڑھے 12 سال قید اور دوسرے کو 33 ماہ قید کی سزا سنائی گئی۔
وکیل رمزی کتیلات نے کہا کہ القدس کی نام نہاد صہیونی مرکزی عدالت نے سوموارن کو وجوان محمد مامون محیسن کو ساڑھے 12 سال قید اور 7000 شیکل جرمانہ ادا کرنے کا فیصلہ سنایا۔
کتیلات نے مزید کہا کہ فریقین کے دلائل سننے کے لیے تقریباً ایک ماہ قبل ایک سیشن منعقد کیا گیا تھا اور پبلک پراسیکیوشن نے دلائل کے بعد اسے ساڑھے 12 سال قید کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ عدالت نے ان کے خلاف 7 اکتوبر 2023 کے دوران اور اس کے بعد آٹھ الزامات پر فرد جرم عائد کی تھی، جس میں متعدد محاذ آرائیوں میں شرکت کا الزام عائد کیاگیا تھا۔
کتیلات نے نشاندہی کی کہ نوجوان محمد محیسن سے سیلوں میں تفتیش کافی دیر تک جاری رہی جس کے بعد اسے ریموند کی صحرائی جیل میں منتقل کر دیا گیا۔
ان کے والد مامون نے کہا کہ ان کے بیٹے محمد کے خلاف جاری کیا گیا حکم غیر منصفانہ، ظالمانہ اور نفرت پر مبنی ہے۔ یہ ان کے اور ان کی والدہ کے لیے صدمہ ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ان کے بیٹے محمد محسن جس کی عمر 22 سال ہے کو اس سے قبل بھی تقریباً 6 مرتبہ گرفتار کرکے حراست میں لیا گیا تھا۔ اس دوران اس نے کئی دن حراست میں گذارے اور آج پہلی بار اس کے خلاف قید کی سزا سنائی گئی ہے۔
اسی تناظر میں قابض اسرائیلی عدالت نے نوجوان محمد خلدون مصطفیٰ کو 33 ماہ قید کی سزا سنائی۔