غزہ (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) رمضان المبارک کا برکتوں والا مہینہ مسلسل دوسرے سال بھی غزہ میں اسرائیلی جنگ کی ہولناکیوں کی موجودگی میں آیا ہے۔ ایک مکمل تباہ کر دیے گئے غزہ میں لاکھوں فلسطینیوں کو غیر معمولی مشکلات کا سامنا ہے۔ اکتوبر 2023 سے شروع ہونے والی اسرائیلی جنگ 19 جنوری 2025 سے شروع ہونے والی جنگ بندی تک مسلسل بمباری کی زد میں رہا اور اب جنگ بندی کے دوران بھی گاہے گاہے اسرائیلی بمباری کے یہ واقعات رونما ہوتے رہے ہیں۔
تاہم اس بے سرو سامانی کے ماحول میں بھی فلسطینی عوام کی رمضان المبارک کے ساتھ کمٹمنٹ اور اسلامی جذبے میں کوئی کمی نہیں ہے۔ اگرچہ جاری جنگ بندی کے پہلے مرحلے کے 42 دن مکمل ہونے کے بعد کسی بھی وقت جنگ کے دوبارہ چھڑجانے کا خطرہ موجود ہے۔
اسرائیلی فوج امدادی سامان کی ترسیل حتیٰ کہ بجلی کے منقطع کر دیے جانے کے احکامات بھی دے رہی ہے۔ تاہم اہل فلسطینی غزہ میں خوف کے باوجود پورے عقیدت و احترام کے ساتھ رمضان المبارک گزار رہے ہیں۔
غزہ میں رمضان کا محاصرہ بھی جاری ہے
مسلسل دو سال تک رمضان کا جنگی ماحول میں آنا اور ایک تباہ شدہ غزہ میں رمضان کے تقاضے نبھانا آسان نہیں ہے۔
شیخ رضوان نامی محلے کے رہائشی 49 سالہ نادر حرب موجودہ رمضان کو پچھلے رمضان سے کافی مختلف بتاتے ہیں۔ نادر حرب پچھلے رمضان میں ہی اسرائیلی بمباری کے باعث جنوبی علاقے میں بےگھر ہو کر رہنے پر مجبور ہوئے تھے۔ تاہم وہ بڑے مطمئن ہیں اور کہتے ہیں کہ مجھے لگتا ہے کہ مجھے اپنی زندگی کا ایک حصہ دوبارہ مل گیا ہے۔ یہ اپنی جگہ درست ہے کہ ایک خوف بھی ساتھ ساتھ رہتا ہے۔
32 سالہ محمد حرب جنگ کے دوران شمالی غزہ میں ہی رہے۔ ان کے خیال میں پچھلے سال کا رمضان زیادہ تلخ ماحول میں آیا تھا۔ خوراک کی شدید کمی تھی۔ امدادی سامان کی ترسیل میں دقتیں کئی زیادہ تھیں اور بعض شمالی علاقوں میں قحط کا سا سماں تھا لیکن اب کافی بہتری ہے۔ رہائشیوں نے چینلجنوں سے نمٹنا سیکھ لیا ہے۔
غزہ میں مارکیٹیں
غزہ میں تباہی کے دور تک پھیلے اثرات کے باوجود زندگی کو بحال کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ کئی جگہوں پر رمضان کے سلسلے میں بازار لگانے کی کوشش کی گئی ہے۔ ملبے کے ڈھیروں کے درمیان رمضان بازاروں کا یہ تجربہ خریداروں اور جانداروں دونوں کے لیے نیا ہے۔ تاہم جنگ بندی کی وجہ سے بعض بنیادی اشیائے خوردونوش دستیاب ہوگئی ہیں۔ اگرچہ اب بھی غزہ میں امدادی سامان اور خوراک کی ترسیل محدود پیمانے پر ہی ہو سکتی ہے۔ البتہ مہنگائی پچھلے برسوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔
ایمن نامی ایک دکاندار نے محسوس کیا ہے کہ رمضان المبارک میں باہتمام فروخت یونے والی مٹھائی ‘قطائف’ 6 ڈالر قیمت تک پہنچ گئی ہے۔ اس وجہ سے اس کی فروخت اور خریداری میں بہت کمی ہو گئی ہے۔
سمیر سالم غزہ ہی کے ایک رہائشی ہیں۔ ان کے مطابق مہنگائی اور اشیائے خوردونوش کی قیمتیں کافی زیادہ ہیں۔ تاہم رمضان کے اپنے ہی ذائقے اور رحمتیں موجود ہیں۔ تمام تر مشکلات کے باوجود ہم رمضان کی اس آمد کو پوری طرح شادمانی کے ساتھ منانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
تباہی و بحالی کے درمیان میں رمضان مبارک
وسیع پیمانے پر پھیلی ہوئی تباہی کے باوجود خان یونس کے پناہ گزین کیمپ میں رہنے والے نوجوانوں نے ٹوٹی اور ملبے کا ڈھیر بنی ہوئی گلیوں میں جھنڈیاں لگا رکھی ہیں تاکہ رمضان کا استقبال اس کے شایان شان کر سکیں۔ اس لیے تباہ شدہ غزہ میں بھی رمضان کو خوش دلی سے رمضان مبارک کے نعروں سے خوش آمدید کہا گیا ہے۔
زخم زخم ہوئے فلسطینی اور غزہ اس کے باوجود رمضان کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ 69 سالہ بارداوی خان یونس کیمپ کی رہائشی ہیں نے کہا ہم تمام تر حالات کے باوجود رمضان پرجوشی سے گزار رہے ہیں۔ ہم ایسے لوگ ہیں جو زندگی سے محبت کرتے ہیں اور رمضان کی خوشیوں کو مناتے ہیں۔ رمضان کے بعد عید الفطر کے موقع پر ہماری یہ خوشیاں اور دوبالا ہو جائیں گی جب میرے دو پوتے پوتیوں کی شادیاں ہوں گی۔
اظہار یکجہتی کے لیے اقدامات
رمضان کی آمد کے ساتھ فلسطینی عوام اپنے دوسرے مسلمان بھائیوں کی مدد کے لیے یکجہتی کے لیے اقدامات کرتے ہیں اور یہ اظہار یکجہتی اور ایک دوسری کی مدد کا سلسلہ سحری سے ہی شروع ہو جاتا ہے اور افطار تک کی دعوتوں تک چلتا ہے۔ جہاں پر بےگھر لوگوں کے لیے خیمے میں افطاریوں کا اہتمام کیا جا رہا ہے۔ اسی طرح افطاری کے بعد کھانوں کی دعوتیں کی جا رہی ہیں۔ غزہ کی گلیوں میں قومی نعرے بھی گونج رہے ہیں اور مارکیٹوں میں مشکلات کے باوجود سرگرمی چل رہی ہے۔
جنگ بندی کے برقرار رہنے کے بارے میں بےیقینی کی صورتحال
غزہ کے رہنے والے اندازہ نہیں کر سکتے کہ جنگ بندی کی کوششوں سے استحکام حاصل کیا جا سکے گا۔ 19 جنوری سے جاری جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی فوج کی طرف سے امدادی سامان کی ترسیل میں رکاوٹوں میں مسلسل اضافہ کیا جا رہا ہے۔
بین الاقوامی سطح پر کی جانے والی کوششوں کے باوجود غزہ کے فلسطینیوں کا خیال ہے کہ رواں سال کا رمضان ایک عارضی مہلت ہوگی۔ یہ ملہت جنگ کے دوبارہ جاری ہونے تک کے لیے ہے۔