غزہ (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اسلامی تحریک مزاحمت ’ حماس‘ نے قابض اسرائیلی ریاست کی جانب سے غزہ کی پٹی کو فراہم کردہ بجلی بند کرنے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اس مجرمانہ اقدام کو فلسطینی عوام اور ان کی مزاحمت پر “سستی اور ناقابل قبول” بلیک میلنگ کی پالیسی کے ذریعے دباؤ ڈالنے کی ایک “مایوس کن کوشش” قرار دیا۔
حماس کے سیاسی شعبے کے رکن عزت الرشق نے اپنے ٹیلی گرام پلیٹ فارم پر شائع کردہ پریس بیانات میں قابض اسرائیل کی جانب سے غزہ کو خوراک، ادویات اور پانی سے محروم کرنے کے بعد بجلی کی بندش کے فیصلے کی شدید مذمت کی۔
الرشق نے کہا کہ بجلی بند کرنا، کراسنگ بند کرنا، امداد، راحت اور ایندھن روکنا اور ہمارے لوگوں کو بھوکا رکھنا اجتماعی سزا اور مکمل جنگی جرم ہے۔
انہوں نے مزید کہاکہ “قابض ریاست کے طرز عمل دستخط شدہ معاہدوں کی صریح خلاف ورزی اور تمام انسانی قوانین اور اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔ صہیونی دشمن اپنے ہی کیے گئے فیصلوں اور اقدامات کا احترام نہیں کرتا۔
حماس نے کہا کہ نیتن یاہو اس معاہدے میں خلل ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے جس کا دنیا نے مشاہدہ کیا ہے۔ ایک نیا روڈ میپ مسلط کرنے کی کوشش کر رہا ہے جو قابض دشمن کے قیدیوں کی زندگیوں کی قیمت پر اور ان کے اہل خانہ کے مطالبات کی پرواہ کیے بغیر اپنے ذاتی مفادات پورا کرنے کی کوشش ہے۔ٍ
انہوں نے مزید کہاکہ “ہم ان جرائم کو جاری رکھنے کے خلاف قبضے کو خبردار کرتے ہیں اور ہم اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ فلسطینی عوام اور ان کی مزاحمت ان دباؤ کے سامنے نہیں جھکیں گے، اور آزادی اور فتح حاصل کرنے تک ثابت قدم رہیں گے”۔