مقبوضہ بیت المقدس (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اسرائیلی میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ اسرائیلی فوج کے چیف آف اسٹاف ایال ازمیر نے فوج کے ترجمان ڈینیئل ہگاری کو برطرف کرنے کا فیصلہ ایسے وقت میں کیا جب لیفٹیننٹ کرنل بینی ہارون کا نام ان کی جگہ لینے کے لیے ممکنہ امیدواروں میں سامنے آیا۔
اسرائیلی براڈکاسٹنگ کارپوریشن نے وضاحت کی کہ ہگاری نے ازمیر سے اتفاق کیا کہ وہ آنے والے ہفتوں میں اپنی ذمہ داریاں ختم کر کے اسرائیلی فوج سے ریٹائر ہو جائیں گے۔
اس نے انکشاف کیا کہ ہگاری کو وزیر دفاع یسرائیل کاٹز کا اعتماد حاصل نہیں.ہگاری اور وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے دفتر کے درمیان راختلافات تھے۔
ہگاری کی برطرفی ایال ازمیر کے آرمی چیف مقرر کیے جانے کے دو دن بعد ہوئی ہے۔ ازمیر نے ہرزی ہلیوی کی جگہ ذمہ داریاں سنبھالی، جس نے غزہ کی پٹی میں فلسطینیوں کے خلاف 15 ماہ سے زائد عرصے تک نسل کشی کی جنگ کی قیادت کی۔
عبرانی اخبار یدیعوت احرونوت نے بتایا ہے کہ ہگار ی جگہ اسرائیلی فوج کے ترجمان کے لیے ممکنہ امیدواروں میں لیفٹیننٹ کرنل بینی ہارون بھی شامل ہیں۔
اخبار نے کہا کہ اسرائیلی فوج اپنے ترجمان کی برطرفی سے حیران رہ گئی اور 7 اکتوبر 2023 کے حملے کی ناکامی کے ذمہ داروں کی برطرفی سے قبل فوجی اہلکار کی برطرفی کو مشکوک قرار دیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ فوج سیاسی قیادت سے دباؤ ڈالنے کی تیاری کر رہی ہے کہ کسی ایسے شخص کی تقرری کی جائے جو ضروری نہیں کہ فوج سے ہو۔ نیتن یاہو کے ارد گرد رہنے والوں کو ہگاری کی برطرفی کے بارے میں مہینوں پہلے علم تھا۔
گذشتہ جنوری میں اسرائیلی فوج اور وزیر دفاع یسرائیل کاٹز کے درمیان تناؤ اس وقت بڑھ گیا جب مؤخر الذکر نے اعلان کیا کہ اس نے ہلیوی کو 7 اکتوبر 2023 کے حملے کی اسٹیٹ کنٹرولر کی تحقیقات میں “مکمل تعاون” کرنے کی ہدایت کی تھی۔