غزہ (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ کے ترجمان عبداللطیف القانوع نے کہا ہے کہ قابض اسرائیلی فوج کی جانب سے غزہ کی پٹی پر محاصرہ سخت کرنا، گذرگاہوں کو ساتویں روز بھی بند کرنا اور امداد کے داخلے کو روکنا تباہی کی جنگ کی ایک شکل ہے جو ہمارے لوگوں کے خلاف ختم نہیں ہوئی۔
القانوع نے ایک پریس بیان میں زور دیا کہ قابض اسرائیل کی طرف سے فاقہ کشی اور اجتماعی سزا کی پالیسی بین الاقوامی اور انسانی قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی اور ایک جنگی جرم کی نمائندگی کرتی ہے جسے دنیا کو روکنا چاہیے اور اس کے مجرموں کا احتساب کرتے ہوئے انہیں کٹہرے میں لانا چاہیے۔
انہوں نے عالمی برادری، تمام انسانی حقوق اور انسانی ہمدردی کے اداروں اور دنیا کے تمام آزاد لوگوں سے مطالبہ کیا کہ وہ قابض اسرائیل کو کراسنگ کھولنے پر مجبور کریں، امدادی اور طبی امداد کی اجازت دیں اور ہمارے لوگوں کے مصائب کا خاتمہ کریں۔
گذشتہ اتوار کو قابض حکام نے غزہ میں تمام انسانی امداد کے داخلے کو روکنے اور پٹی کے ساتھ گذرگاہوں کو بند کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔
حماس نے پچھلے بیانات میں کہا تھا کہ قابض حکومت معاہدے کے خاتمے میں دلچسپی رکھتی ہے اور وہ معاہدے کو ختم کرنےکے لیے بھرپور محنت کررہی ہے۔