غزہ (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ نے کہا ہے کہ قابض اسرائیلی جیلوں میں فلسطینی قیدیوں کو مسلسل سست اور دانستہ موت سے دوچار کرنا قابض ریاست کی سفاکیت اور اس میں تمام انسانی اقدار کے فقدان کے ساتھ ساتھ جنگی قیدیوں کے حقوق سے متعلق بین الاقوامی اصولوں اور معاہدوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
حماس نے جمعرات کو ایک بیان میں واضح کیا کہ غزہ کی پٹی کے شمال میں واقع جبالیہ سے تعلق رکھنے والے قیدی علی البطش کی موت قابض حکومت کی انتہا پسندانہ پالیسی کے نتیجے میں ہوئی ہے، جو جیلوں میں قیدیوں کو قتل کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ یہ قتل قیدیوں کے خلاف سنگین صہیونی جرائم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور مجرمانہ طرز عمل کی نشاندہی کرتا ہے۔ان میں جان بوجھ کر طبی اور نفسیاتی لاپرواہی شامل ہیں۔
حماس نے قیدیوں کو اذیت ناک نشانہ بنانے اور انہیں جسمانی طور پر ختم کرنے کے قابض دشمن کے مسلسل طرز عمل کے خلاف خبردار کیا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ طرز عمل ان کے عزم اور آزادی کی امید کو روکنے میں کامیاب نہیں ہوں گے۔
حماس نے کہا کہ فلسطینی عوام سے ان تمام مقامات پر جہاں وہ موجود ہیں قیدیوں پر مظالم کے خلاف آواز بلند کریں۔ تمام انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ قیدیوں کی حمایت اور پشت پناہی کے لیے مزید کوششیں کریں اور مطالم کا سلسلہ بند کرانے کے لیے صہیونی دشمن پردباؤ ڈالیں۔
خیال رہے کہ فلسطینی اسیران کے نگران اداروں نے بتایا ہے قابض صہیونی فوج کے جلادوں نے تشدد کرکے ایک بزرگ فلسطینی قیدی باسٹھ سالہ علی عاشور علی البطش کو شہید کردیا ہے جس کے بعد غزہ کی پٹی پر قتل عام کی جنگ کے آغاز سے لے کر اب تک شہید ہونے والے قیدیوں کی تعداد 62 ہو گئی ہے۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ قیدی البطش کی شہادت کے ساتھ ہی ان شہید قیدیوں کی تعداد بڑھ کر 71 ہو گئی ہے جن کی میتیں قابض فوج نے اپنے قبضے میں لے رکھی ہیں۔