نیو یارک (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی ثالثی میں جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کو مسترد کرتے ہوئے حماس سے تمام اسرائیلی قیدیوں کو “فوری طور پر رہا کرنے” کا مطالبہ کیا ہے۔
ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب غزہ میں 42 روزہ جنگ بندی معاہدے کا پہلا مرحلہ ختم ہو گیا، جب کہ اسرائیل دوسرے مرحلے میں داخل ہونے سے فرار اختیار کرگیا ہے۔
ٹرمپ نے اپنےسوشل میڈیا پلیٹ فارم’ٹروتھ سوشل‘ پر ایک پوسٹ میں حماس کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ “شالوم حماس، جس کا مطلب ہے ہیلو اور الوداع،آپ انتخاب کر سکتے ہیں، یا تو تمام یرغمالیوں کو ابھی رہا کر دیں، بعد میں نہیں اور فوری طور پر ان تمام لوگوں کی لاشیں واپس کر دیں جنہیں آپ نے قتل کیا یا آپ کی وجہ سے انہیں قتل کیا گیا ہے”۔
ٹرمپ نے مزید کہا: “ہم اسرائیل کو ہر وہ چیز بھیج رہے ہیں جس کی حماس ختم کرنے کی ضرورت ہے اور حماس کا کوئی رکن محفوظ نہیں رہے گا اگر وہ میرے کہنے پر عمل نہیں کرتا ہے”۔
اس نے اپنی دھمکی جاری رکھتے ہوئے کہاکہ “یہ آخری وارننگ ہے۔ اب غزہ چھوڑنے کا وقت ہے، جب کہ آپ کے پاس ابھی بھی موقع ہے”۔
انہوں نے مزید کہا کہ “یرغمالیوں کو ابھی رہا کرو ورنہ بعد میں جہنم ہو گی”۔
ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں جنگ بندی کے معاہدے کا حوالہ نہیں دیا، جس میں تین مراحل شامل ہیں اور پہلے مرحلے میں اسرائیل کو پٹی میں اپنے 33 قیدی ملے۔
جب کہ وائٹ ہاؤس نے حماس کے ساتھ براہ راست بات چیت کی تصدیق کی اور کہا کہ ٹرمپ کا خیال ہے کہ وہ امریکی عوام کے مفاد میں نیک نیتی کے ساتھ کی گئی تھی”۔ ٹرمپ نے غزہ کے معاہدے کو ترک کر دیا جو کہ امریکی ضمانتوں کے ساتھ طے کیا گیا تھا۔ اس نےحماس کو جہنم کے دروازے کھولنے کی دھمکی دی‘‘۔
یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ ٹرمپ نے حماس کو جہنم کی دھمکی دی ہو، جبکہ حماس اس معاہدے پر عمل درآمد کے اپنے عزم کا اعادہ کرتی رہی ہے۔ حماس اسرائیل سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ معاہدے کی تمام شرائط کی پابندی کرے، ثالثوں سے دوسرے مرحلے کے لیے فوری طور پر مذاکرات شروع کرنے کا مطالبہ کرتا ہے جس میں پٹی سے اسرائیلی انخلاء اور جنگ کا مکمل خاتمہ شامل ہے۔
جب کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو جسے امریکہ کی مکمل حمایت حاصل ہے، معاہدے کے پہلے مرحلے میں توسیع کرنا چاہتے ہیں، جو 19 جنوری 2025 کو نافذ ہوا تھا۔ وہ غزہ میں ممکنہ سب سے بڑی تعداد میں اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں۔
امریکی حمایت کے ساتھ اسرائیل نے 7 اکتوبر 2023ء سے 19 جنوری 2025ء کے درمیان غزہ میں نسل کشی کی، جس میں 160,000 سے زیادہ فلسطینی شہید اور زخمی ہوئے، جن میں زیادہ تر بچے اور خواتین تھیں، اور 14,000 سے زیادہ لاپتہ ہوئے۔