دوحہ (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ کے ایک سرکردہ ذریعے نے قطری دارالحکومت دوحہ میں امریکی انتظامیہ کے ایک نمائندے کے ساتھ حال ہی میں ہونے والے مذاکرات کی تصدیق کی ہے۔
حماس کے رہنما نے العربی الجدید کو دیے گئے خصوصی بیانات میں کہا کہ یہ براہ راست بات چیت جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایلچی برائے یرغمالی امور ایڈم بوہلر کی موجودگی میں ہوئی تھی، ٹرمپ کے دو ہفتے قبل حماس کی جانب سے امریکی شہریت رکھنے والے قیدیوں کو رہا کر نےکے خیر سگالی کے اظہار کے بارے میں ٹرمپ کے اس بیان کے فوراً بعد سامنے آئی ہے۔
ٹرمپ کی طرف سے حماس سے خیر سگالی کا اظہار کرنے کے مطالبے کے بعد اور مذاکرات کے آغاز کے ساتھ حماس نے غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کے معاہدے کے پہلے مرحلے کے اندر ہونے والے تبادلے کے معاہدے کے چھٹے بیچ کے تین قیدیوں میں سے امریکی شہریت رکھنے والے اسرائیلی قیدی سجوئے ڈیکل چن کو رہا کیا۔
حماس کے رہ نما نے انکشاف کیا کہ حماس نے مذاکرات کے دوران ایک جامع معاہدے کی تجویز پیش کی تھی جو جنگ کے خاتمے کے ساتھ ختم ہو جائے گی۔ حماس نے واضح کیا کہ امریکہ جن قیدیوں کو رہا کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے وہ جنگی فوجی تھے جو فوجی مقامات سے پکڑے گئے تھے۔ وہ عام شہری نہیں تھے اور نہ ہی وہ شہری مقامات پر تھے۔ ان کی تعداد 4 سے 6 کے درمیان تھی۔
حماس کی قیادت کے ذریعے نے انکشاف کیا کہ ٹرمپ انتظامیہ کا یہ اقدام اپنی نوعیت کا پہلا نہیں تھا۔ امریکی انتخابات سے قبل سابق صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کی جانب سے کی گئی نامکمل کوششوں میں معاہدے تک پہنچنے کی کوشش کی گئی تھی مگر نیتن یاھو کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے معاہدے کی دشواری کا یقین ہو گیا تھا۔اس وقت ایک جزوی ڈیل کی کوشش کی گئی تھی جس کے تحت قید امریکی شہریوں کو رہا کیا جانا تھا۔
اس سے قبل بدھ کو امریکی ویب سائٹ “ایکسیس” نے دو باخبر ذرائع کے حوالے سے انکشاف کیا کہ حماس اور امریکہ کے درمیان حالیہ ہفتوں میں براہ راست اور غیرمعمولی بات چیت ہوئی ہے، جس میں غزہ میں امریکی قیدیوں کی رہائی کی کوشش پر تبادلہ خیال کیاگیا۔ اس کے علاوہ جنگ روکنے کے لیے ایک وسیع معاہدے تک پہنچنے پر بھی بات چیت کی گئی ہے جو تمام قیدیوں کی رہائی کی ضمانت دے گا۔ لیکن ابھی تک کوئی معاہدہ نہیں ہو سکا۔ امریکہ نے اس سے قبل حماس کے ساتھ کبھی براہ راست بات چیت نہیں کی۔ اس نے 1997ء سے حماس کو دہشت گرد تنظیم قرار دے رکھا ہے۔
اسرائیلی اخبار “یروشلم پوسٹ” نے نامعلوم ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے تصدیق کی کہ یہ مذاکرات ہوئے ہیں۔ مذاکرات میں امریکی عہدیدار بوہلر نے “حماس” سے ملاقات کی کیونکہ “اس کا کردار اسے ایسا کرنے کی اجازت دیتا ہے”۔ ذرائع نے مزید کہا کہ بات چیت “بنیادی طور پر امریکی یرغمالیوں کی رہائی پر مرکوز تھی، حالانکہ ان میں تمام یرغمالیوں کو بھی شامل کیا گیا تھا”۔ واشنگٹن اور حماس کے درمیان اس رابطے کو “مثبت اشارہ” قرار دیا جا رہا ہے جس سے غزہ میں جنگ بندی معاہدے کے دوسرے مرحلے کے لیے بات چیت کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔