مقبوضہ بیت المقدس (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اقوام متحدہ کے بچوں کے ادارے (یونیسیف) نے کہا ہے کہ غزہ کی پٹی میں امداد کے داخلے پر حالیہ اسرائیلی پابندیاں شہریوں کے المیے میں اس طرح اضافہ کر رہی ہیں جو ایک بے مثال انسانی تباہی کی علامت ہے۔
یونیسیف نے بدھ کے روز ایک بیان میں اس بات کی تصدیق کی کہ غزہ کی پٹی میں امدادی سامان کے داخلے کو روکنے، بہ شمول ویکسین اور سانس لینے والی ادویات روکنے سے بچوں کے لیے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔
تنظیم نے کہا کہ اگر وہ غزہ کی پٹی میں طبی سامان لانے سے قاصر ہے تو معمول کی ویکسینیشن مکمل طور پر روک دی جائے گی۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر طبی سامان نہ پہنچایا گیا تو غزہ کی پٹی میں نوزائیدہ بچوں کی حالت انتہائی خطرے میں ہے۔
مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے لیے یونیسیف کے علاقائی ڈائریکٹر ایڈورڈ بیگ بیڈر نے کہا کہ اتوار کو اعلان کردہ امداد پر عائد اسرائیلی پابندیاں شہریوں کی جان بچانے کے لیے کیے جانے والے آپریشنز کو شدید متاثر کریں گی۔
انہوں نے جنگ بندی کو برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے امداد کے آزادانہ بہاؤ کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے وضاحت کی کہ یونیسیف جنگ بندی کے پہلے مرحلے کے دوران زیادہ بنیادی سامان لانے اور ضرورت مند بچوں کی زیادہ تعداد تک پہنچنے کے قابل رہا ہے مگر اب اس کے پاس بچوں کو امداد فراہم کرنے کا کوئی ذریعہ نہیں۔
ہفتے کے روز نیتن یاہو نے پٹی میں گذرگاہوں کو بند کرنے اور غزہ میں فلسطینی مزاحمت کی طرف سے تمام اسرائیلی قیدیوں کو بغیر قیدیوں کے تبادلے کے حوالے کیے جانے تک امداد کے پٹی میں داخلے کو روکنے کا اعلان کیا تھا۔
گذشتہ ہفتہ/اتوار کی آدھی رات کو غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے کا پہلا مرحلہ جو 42 دن تک جاری رہا، باضابطہ طور پر ختم ہو گیا۔قابض اسرائیل نے دوسرے مرحلے میں داخل ہونے اور جنگ ختم کرنے پر رضامندی ظاہر نہیں کی۔
اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ نیتن یاہو اپنی حکومت میں انتہا پسندوں کو خوش کرنے کے لیے غزہ میں ممکنہ سب سے بڑی تعداد میں اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کے لیے تبادلے کے معاہدے کے پہلے مرحلے میں توسیع کرنا چاہتے ہیں اور وہ جنگ بندی کے دوسرے مرحلے میں جانے کے لیے تیار نہیں۔