درعا (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو کی جانب سے شام کی سرحد پر نئی فوج کی تعیناتی روکنے اور شام کو اسلحے سے پاک کرنے کے بیانات کے خلاف شامی عوام میں سخت رد عمل سامنے آیا ہے۔
نیتن یاھو کے اشتعال انگیز بیانات کے خلاف شام کے مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ مظاہرین نے نیتن یاھو کے اشتعال انگیز بیانات کے خلاف حکومت کی طرف سے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا گیا۔
نتن یاہو کے بیانات کی مذمت کرتے ہوئے درعا کے مشرقی دیہی علاقوں میں بصرہ الشام اور جنوبی شام کے مغربی دیہی علاقوں میں ناوا میں مظاہرے ہوئے۔
مظاہرین نے شام کے اندرونی معاملات میں اسرائیل کی مداخلت کو مسترد کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ جنوبی علاقے میں سکیورٹی کو برقرار رکھنے کے لیے مزید سرکاری فوجیں بھیجی جائیں۔
مظاہرین نے شام کے اتحاد اور ملک کے جنوب یا کسی بھی علاقے کو شام کے باقی علاقوں سے الگ کرنے کی صہیونی اور امریکی سازشوں کو مسترد کردیا۔
جنوبی شام میں قنیطرہ گورنری میں خان ارنبہ کے لوگوں نے بھی نیتن یاہو کے بیانات کی مذمت کرنے کے لیے ایک احتجاجی مظاہرے کا اہتمام کیا اور شامی حکومت کے لیے اپنی حمایت اور اپنے ملک کی علاقائی سالمیت کے تحفظ کی ضرورت کا اعادہ کیا۔
کچھ بینرز پر لکھا تھا کہ “اسرائیلی دراندازی ناقابل قبول ہے”، “جنوبی شام آزاد شام کا حصہ ہے”۔
اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیلی فوج ماؤنٹ ہرمون کے علاقے اور بفر زون میں لامحدود مدت تک موجود رہے گی۔ اس نے مطالبہ کیا کہ جنوبی شامی علاقے بشمول قنیطرہ، درعا اور سویدا کے صوبوں کو غیر فوجی علاقے بنایا جائے۔
نیتن یاہو نے مزید کہا کہ “ہم ھیۃ تحریر الشام تنظیم کی افواج یا نئی شامی فوج کو دمشق کے جنوب میں واقع علاقے میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دیں گے”۔ اس نے کہا کہ “ہم جنوبی شام میں دروز کمیونٹی کے لیے کسی خطرے کو برداشت نہیں کریں گے”۔
اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاٹز نے کہا کہ فوج شام کے ساتھ بفر زون میں طویل عرصے تک تعینات رہے گی۔
کاٹز نے مزید کہا کہ “ہم یہاں سے سویدا-دمشق روڈ تک پھیلے ہوئے علاقے میں اسرائیل کی سلامتی کو خطرہ بننے والی کسی بھی فورس کی تعیناتی کی اجازت نہیں دیں گے۔