غزہ (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ کے رہنما مشیر المصری نے زور دے کرکہا ہے کہ غاصب اسرائیل غزہ کی پٹی میں فلسطینی مزاحمت کاروں کے زیر حراست اپنے قیدیوں کو زندہ بازیاب نہیں کرے گا۔ انہیں زندہ چھڑانے کےلیے دشمن کو معاہدہ کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ حماس ایک حقیقت ہے جسے مٹایا نہیں جا سکتا۔
سات اکتوبر 2023ء کو غزہ کی پٹی پر قابض اسرائیل کی طرف سے شروع کی گئی تباہی کی جنگ کے آغاز کے بعد المصری پہلی بار سامنےآئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حماس نے ثالثوں کو مطلع کیا کہ وہ قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے اور غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کے حوالے سے بات چیت کا دوسرا مرحلہ شروع کرنے کے لیے تیار ہے۔
الجزیرہ مباشر کے ساتھ ایک انٹرویو میں انہوں نے قیدیوں کے تبادلے، ایک مستقل جنگ بندی اور غزہ کی پٹی سے قابض افواج کے مکمل انخلاء پر مبنی ایک جامع معاہدے کے لیے مزاحمت کی تیاری پر زور دیا۔
المصری نے مزید کہا کہ حماس معاہدے کے مراحل کے لیے پرعزم ہے۔ دوسرے مرحلے میں غزہ کی پٹی میں مستقل جنگ بندی، پٹی سے قابض افواج کے مکمل انخلاء اور مزاحمت کے ہاتھوں قید کیے گئے قابض افسران اور فوجیوں کے بدلے فلسطینی قیدیوں کے تبادلے کی تکمیل پر بات کی گئی ہے۔
المصری نے اس بات پر زور دیا کہ قابض حکام کے معاہدے پر عمل درآمد کے عزم کا بنیادی ضامن خود معاہدہ ہے، جو ضامنوں کی موجودگی کو متعین کرتا ہے۔
اس تناظر میں ثالثوں نے معاہدے کے تقاضوں پر عمل درآمد کرنے کے لیے قابض اسرائیل کو پابند کرنے پر زور دیا۔ فلسطینی عوام ایک اور ضامن ہیں کیونکہ ان کے پاس ایک مقصد اور آزادی کا نصب العین ہے جو ناانصافی کو قبول نہیں کریں گے۔
غزہ کی پٹی کے مستقبل کے بارے میں المصری نے کہا کہ طوفان الاقصیٰ کی جنگ نے ثابت کر دیا کہ “حماس ایک ایسی حقیقت ہے جسے مٹایا نہیں جا سکتا، فلسطینی مزاحمت متحد ہے”۔
انہوں نے کہا کہ “حماس نہ تو اقتدار کی تلاش میں ہے اور نہ ہی وہ پٹی کو سنبھالنے کی کوشش کرتی ہے، لیکن حماس فلسطینی عوام کو نہیں چھوڑ سکتی اور نہ ہی اس عوام کے انتخاب سے پیچھے ہٹ سکتی ہے”۔