Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

Palestine

’والدین کی نعشوں کے ٹکڑےہسپتال سے ملے، گھناؤنے جرم کا تصور کرکےکانپ جاتا ہوں‘

غزہ   (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) یورو-میڈیٹیرینین ہیومن رائٹس مانیٹر نے کہا ہے کہ اس کی فیلڈ تحقیقات نے دو بزرگ فلسطینیوں کی شناخت کی ہے جنہیں قابض اسرائیلی فوج نے گذشتہ مئی میں غزہ شہر کے جنوب میں واقع “الزیتون” محلے پر حملے کے دوران بے دردی سے قتل کرنے سے قبل انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کیا تھا۔

یورو-میڈیٹیرینین ہیومن رائٹس مانیٹر نے بتایا کہ اس کی فیلڈ اور قانونی ٹیموں نے جرم کی تحقیقات کیں۔و ہ اس نتیجے پر پہنچے کہ متاثرین میں70 سالہ”محمد فہمی ابو حسین” اور ان کی اہلیہ 65 سالہ”مزیونہ حسن فارس ابو حسین” شامل ہیں ۔

یورو-میڈیٹیرینین ہیومن رائٹس مانیٹر نے اطلاع دی ہے کہ اس نے عبرانی ویب سائٹ “ہامکوم” کی طرف سے شائع ہونے والی تحقیقات کے بعد “حناہل” بریگیڈ کے ایک اسرائیلی افسر کے بارے میں ایک 70 سالہ فلسطینی شخص کے گلے میں دھماکہ خیز مواد زنجیر باندھی تھی۔ اسے گھروں میں داخل ہونے پر مجبور کیا تھا تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ وہ الزیتون محلے میں موجود مکانات میں کوئی بارودی سرنگ موجود نہیں۔ اسے آٹھ گھنٹے تک الزیتون محلے کے گھروں میں بارودی بم کے ساتھ گھومایا گیا۔ جب قابض فوج کو یقین ہوگیاکہ مکانات خطرے سے خالی ہیں تو قابض فوج نے بے رحمی کے ساتھ
محمد فہمی اور اس کی اہلیہ کو گولیاں مارکر شہید کردیا۔

یورو-میڈیٹیرینین ہیومن رائٹس مانیٹر کی جانب سے کی گئی فیلڈ تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ ابو حسین اور ان کی اہلیہ کا مجرمانہ قتل ہیمکوم ویب سائٹ کی طرف سے شائع ہونے والے واقعے سے مکمل طور پر مماثلت رکھتا ہے، کیونکہ بہت سی ضروری تفصیلات ان کے درمیان ایک دوسرے سے ملتی ہیں۔ اس سے یہ یقین کرنا آسان ہوجاتا ہے کہ یہ دونوں ایک ہی واقعات ہیں۔

شواہد کے ان ٹکڑوں میں سب سے نمایاں یہ ہے کہ مئی 2024 میں ہونے والے واقعے کی تاریخ غزہ شہر کے “الزیتون” محلے میں پیش آنے والے واقعے کے مقام کے علاوہ میڈیا میں رپورٹ ہونے والی تاریخ سے ملتی ہے۔ خبروں میں دی گئی متاثرین کی تخمینی عمریں بھی تحقیقات کے نتائج سے پوری طرح مطابقت رکھتی ہیں۔ تحقیقات میں یہ قدر مشترک ہے کہ شہید ہونے والے دونوں بزرگ میاں بیوی تھے۔

اس مفروضے کی حمایت کرنے والے شواہد کے سب سے نمایاں ٹکڑوں میں سے ایک دھماکہ خیز مواد سے تعلق ہے، جس کی تصدیق فیلڈ تحقیقات کے ذریعے ہوئی، جس سے اس یقین کو تقویت ملی کہ دونوں واقعات اسی وحشیانہ جرم کی طرف اشارہ کرتے ہیں جس میں متاثرین کو قتل کرنے سے پہلے انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کیا گیا تھا۔

یورو-میڈیٹیرینین ہیومن رائٹس مانیٹر نے کہا کہ اس کی اپنی تحقیقات نے عبرانی ویب سائٹ “ہیمکوم” کی رپورٹ کردہ معلومات سے زیادہ وحشیانہ تفصیلات کا انکشاف کیا ہے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ امکان ہے کہ دونوں شہدا کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کیا گیا تھا۔ دونوں میاں بیوی کے ساتھ بم باندھے گئے تھے۔

یورو-میڈیٹیرینین ہیومن رائٹس مانیٹر نے اطلاع دی ہے کہ بیوی، “مزیونہ حسن فارس ابو حسین” کی لاش چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں تقسیم ہوگئی تھی اس کا جسم سلامت نہیں رہا تھا۔ اسے صرف اس کے کان میں لگی انگوٹھی سے بہ مشکل شناخت کیا گیا تھا، جب کہ اس کے شوہر “محمد فہمی ابو حسین” کا جسم دائیں طرف سے مکمل طور پر ختم ہوچکا تھا۔اس سے پتا چلتا ہے کہ اسے گولی مارکر شہید نہیں کیا گیا بلکہ اسی بم سے قتل کیا گیا جو اس کے جسم کے ساتھ باندھا گیا تھا۔

یورو-میڈیٹیرینین فیلڈ ٹیم نے دو نوں میاں بیوی کے بارےمیں ان کے بیٹے 38 احمد محمد فہمی ابو حسین سے بھی بات کی، جس نے بتایا کہ واقعے کے بعد ان کے والدین کی لاشوں کے حصے غزہ کے مشرق میں واقع “صلاح الدین” روڈ سے ہٹا دیے گئے تھے۔

انہوں نے مزید کہا کہ “قابض فوج کے زیتون محلے پر حملہ کرنے کے بعد ہمیں گھر بار چھوڑنے پر مجبور کیا گیا، جب کہ میرے والدین اپنے بڑھاپے اور نقل و حرکت میں دشواری کی وجہ سے وہاں سے نہیں نکل سکے۔ہم ان کے ساتھ 10 مئی 2024 تک مسلسل رابطے میں تھے۔ ہم نے ان کی آخری کال کے دوران ان کی آواز میں خوف محسوس کیا۔ میرے والد نے مجھے بتایا کہ قابض فوج گھر میں داخل ہوئی اور انہیں جنوبی غزہ کی پٹی کی طرف جانے کا حکم دیا۔ چند منٹ بعد میں نے دوبارہ کال کرنے کی کوشش کی تو فون بند تھا “ہم ان کے بارے میں جاننے سے قاصر تھے جب تک قابض فوج وہاں سے نہیں نکلی ہم وہاں نہیں جا سکے۔ جب ہم وہاں پہنچے تو گھر کو مکمل طور پر جلایا ہوا پایا۔ بعد میں ہمیں اہلی ہسپتال سے والد اور والدہ کے جسم کے کچھ حصے ملے، میری والدہ کی لاشیں صلاح الدین اسٹریٹ سےملی تھیں جہاں ایسا لگتا ہے کہ ان کے جسموں کے ساتھ بم باندھ کر انہیں شہید کیا گیا تھا۔

ابو حسین نے مزید کہا کہ “میرے والد کے جسم کا دائیں حصہ مکمل طور پر ختم ہو گیا تھا۔ان کو پہچاننا مشکل تھا۔میری ماں کا جسم بری طرح مسخ تھا۔ ہمیں صرف اس کے چہرے کے کچھ حصے ملے اور ہم نے اسے اس کے جبڑے سے پہچانا۔ ناہوں نے سنہرے دانت لگوائے ہوئے تھے۔

ابو حسین نے مزید کہا کہ ’’بعد میں ہمیں اسرائیلی فوج کے اس اعلان اور اعتراف پر حیرت ہوئی کہ اس نے میرے والد کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کیا، اور پھر میری والدہ کے ساتھ انہیں شہید کردیا تھا۔ہمارا ان سے کئی دن تک رابطہ نہیں ہوسکا۔ہمیں امید تھی کہ وہ زندہ ہیں لیکن بعد میں ہمیں پتہ چلا کہ انہیں اس بے دردی سے مارا گیا جس کا ہم تصور بھی نہیں کر سکتے تھے”۔

مقتول جوڑے کے بیٹے کا کہنا تھا کہ قتل کرنے سے قبل اس کے والدین ایک بیگ ساتھ لے کر گئے تھے جس میں سونا اور رقم موجود تھی تاہم ان کے قتل کے بعد بیگ مکمل طور پر غائب تھا۔

یورو-میڈیٹیرینین ہیومن رائٹس مانیٹر نے زور دے کر کہا کہ یہ جرم صرف بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزی نہیں ہے بلکہ 7 اکتوبر 2023 سے غزہ کی پٹی میں قابض اسرائیلی فوج کی طرف سے فلسطینیوں کے خلاف کی جانے والی نسل کشی کے منظم کارروائیوں کا حصہ ہے۔

یہ جرم بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی کی بھی نمائندگی کرتا ہے، جو شہریوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنے کی سختی سے ممانعت کرتا ہے، اور جان بوجھ کر قتل کو جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے طور پر درجہ بندی کرتا ہے۔ اس جرم کے مرتکب عناصر کو عبرت ناک اور کڑی سزائیں دی جانی چاہئیں۔

یورو-میڈیٹیرینین ہیومن رائٹس مانیٹر نے کہا کہ قابض اسرائیلی فوج کے اس جرم کے اعتراف سے انکار یا ذمہ داری سے بچنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے، بلکہ یہ پٹی میں ہونے والی سنگین خلاف ورزیوں کا براہ راست ثبوت ہے، جس کے لیے بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ مجرموں کو جوابدہ ٹھہرانے کے لیے فوری کارروائی کرے۔

یورو-میڈیٹیرینین ہیومن رائٹس مانیٹر نے بین الاقوامی فوجداری عدالت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس جرم کو غزہ کی پٹی میں جاری نسل کشی کے اضافی ثبوت کے طور پر غور کرے اور اسے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں ہونے والے جرائم کی اپنی جاری تحقیقات میں شامل کرے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan