مقبوضہ بیت المقدس (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اسرائیلی کنیسٹ پلینم نے بدھ کے روز 47 ارکان کنیسٹ کی اکثریت سے ایک بل کی منظوری دی ہے جس میں غزہ میں جنگی جرائم کے ارتکاب کا ریکارڈ مرتب کرنے والی تنظیموں کے ساتھ تعاون نہ کرنے اور ان کے کام میں رخنہ اندازی کی سفارش کی گئی ہے۔بل پر ابتدائی رائے شماری میں 19
ارکان نے مخالفت کی۔ بل میں کہا گیا کہ سپریم کورٹ انسانی حقوق کی تنظیموں کی طرف سے جمع کرائی گئی درخواستوں پر غور کرنے کی پابند نہیں ہے خاص طور پر ایسی تنظیمیں جو بیرونی ممالک سے عطیات وصول کرتی ہیں۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ اسرائیلی بل انسانی حقوق کی تنظیموں کو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قابض حکام کی جانب سے کیے جانے والے جنگی جرائم کو دستاویزی شکل دینے اور منظر عام پر لانے سے روکنے کی کوشش ہے۔
اس بل کے مطابق اسرائیلی عدالتیں ایسی انجمنوں کی طرف سے جمع کرائی گئی درخواستوں پر غور کرنے کی پابند نہیں ہوں گی جن کی فنڈنگ زیادہ تر بیرونی ممالک سے آتی ہے۔
اس بل میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بیرونی ممالک سے انجمنوں کی طرف سے موصول ہونے والے عطیات پر 80 فی صد انکم ٹیکس عائد کیا جائے گا، جب تک کہ اسرائیلی وزارت خزانہ کوئی اور فیصلہ نہ کرے۔
مسودہ قانون میں کہا گیا ہے کہ اس کے متن کا اطلاق ریاستی بجٹ سے مالی اعانت حاصل کرنے والے سرکاری اداروں پر نہیں ہوتا۔
“یہ تنظیمیں انسانی حقوق کی تنظیمیں نہیں ہیں بلکہ ایسی تنظیمیں ہیں جو فلسطینیوں کے خلاف اسرائیل کی پالیسیوں کو غیر قانونی قرار دیتی ہیں۔ یہ اسرائیلی عدالتوں کو بیرونی ممالک کے لیے میدان میں تبدیل کرتی ہیں۔ یہ بل لیکوڈ رکن کنیسٹ ایریل کیلنر نے دعویٰ کیا ۔ اس نے کہا کہ یہ اسرائیل کی ریاست کے خلاف فنڈڈ عدالتی بغاوت ہے۔