اریحا (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) کل منگل کو قابض اسرائیلی فوج نےغرب اردن کے جنوبی شہر الخلیل کے جنوب میں مسافر یطا میں فلسطینیوں کے سات مکانات مسمار کردیے۔ اس کے علاوہ قابض فوج نے شہر میں ایک بکرا فارم بھی تباہ کردیا۔ اطلاعات کے مطابق آباد کاروں نے اریحا کے شمال میں راس عین العوجا کمیونٹی پر حملہ کیا۔
مقامی ذرائع نے بتایا کہ قابض فوج نے ام الخیر گاؤں پر چھاپہ مارا اور شہریوں عمار شعیب الحتالین، فاطمہ علی المعزی اور حامد شعیب الحتالین کے تین مکانات کو مسمار کردیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ قابض فوج نے مسافر یطا گاؤں شب البطم میں شہری فضل اسماعیل النجار کے ایک مکان کو مسمار کیا جس میں نو افراد رہائش پذیر تھے، یہ بات قابل ذکر ہے کہ اس مکان کو پانچ ماہ قبل مسمار کر کے دوبارہ تعمیر کیا گیا تھا۔
جب کہ قابض فوج نے مسفر یطا کے گاؤں الطوانہ پر چھاپہ مارا اور شہریوں فاضی، احمد اور خالد العمور کے تین مکانات کو مسمار کردیا۔
مسفر یطا کے مکینوں نے وضاحت کی کہ قابض فوج نے الخلیلی کے جنوب میں واقع دیہاتوں اور مسافر یطاکے شہریوں کے خلاف حملوں میں اضافہ کیا ہے، گھروں اور سہولیات کو مسمار کر کے، شہریوں کو تعمیر کرنے سے روکا جا رہا ہے۔
فلسطین میں مکانات مسماری پر نظر رکھنے ادارے وال اینڈ سیٹلمنٹ ریزسٹنس کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق قابض حکام نے گذشتہ ماہ بیت المقدس سمیت مغربی کنارے میں 76 مسماری کی کارروائیاں کیں جس سے 126 تنصیبات متاثر ہوئیں جن میں 74 آباد مکانات، 4 غیر آباد مکانات اور 29 زرعی اور دیگر سہولیات شامل ہیں۔
دوسری جانب اسرائیلی قابض فوج کی حفاظت میں آباد کاروں نے منگل کو اریحا کے شمال میں واقع راس عین العوجا کمیونٹی پر دھاوا بول کر 3 شہریوں کو گرفتار کر لیا۔
مقامی ذرائع نے وضاحت کی کہ آباد کاروں نے کمیونٹی پر دھاوا بول دیا اور بدو شہریوں کے گھروں بکریاں چرائیں جب کہ جائے وقوعہ پر موجود قابض فورسز نے سلمان محمود کعابنہ ، سلیمان سالم العمرین اور سلیمان محمود العمرین کعابنہ کو حراست میں لے لیا۔