غزہ (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) غزہ کی پٹی میں اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ کے سربراہ اور مذاکراتی وفد کے انچارج ڈاکٹر خلیل الحیہ نے کہا ہے غزہ کی پٹی میں جنگ بندی معاہدے کے دوسرے مرحلے کی شقوں پر عمل درآمد کے لیےحماس اور مزاحمتی تحریک کی جانب سے فوری طور پر مذاکرات میں شامل ہونے کے لیے تیار ہے۔
خلیل الحیہ نے ریکارڈ شدہ ویڈیو میں وضاحت کی کہ مکمل جنگ بندی اور پائیدار امن کا حصول، غزہ کی پٹی سے قابض افواج کا مکمل انخلاء، دوسرے مرحلے کے لیے قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کو ایک ساتھ مکمل کرنا بنیاد شرائط ہیں۔ہم ایک ہی پیکج کے طور پر اس پر اتفاق کرنے کے لیے تیار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ غزہ میں جنگ بندی کے عمل کو آگے بڑھانے کے لیے بین الاقوامی ضمانتوں کی ضرورت ہے۔ انہوں نے غزہ میں جنگ بندی کے حوالے سے سلامتی کونسل کی قرارداد 2735 میں عمل درآمد پر زور دیا۔
مزاحمتی فورسز نے جمعرات کو قابض اسرائیلی قیدیوں میں سے چار کی لاشیں حوالے کرنے کے اپنے فیصلے کا اعلان کیا۔ جنگ بندی معاہدے کے مذاکرات کے دوسرے مرحلے میں شامل ہونے کے لیے تیا ہیں۔
الحیہ نے کہا کہ “نعشوں کی حوالگی دشمن کے ساتھ جنگ بندی معاہدے کے پہلے مرحلے کو کامیاب بنانے کے لیے جاری کوششوں کے تسلسل کے طور پر سامنے آئی ہے۔ اس کے دوسرے مرحلے میں شامل ہونے کی تیاری، اور ثالثوں کی کوششوں کے جواب میں حماس اور مزاحمت نے جنگ بندی کا عمل جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے‘۔
انہوں نے واضح کیا کہ جو لاشیں حوالے کی جائیں گی ان میں ’’بیباس‘‘ خاندان کی لاشیں بھی شامل ہیں۔ دشمن 22 فروری بروز ہفتہ کو ہمارے قیدیوں کو رہا کرے گا۔ معاہدے کے مطابق وہ ہمارے قیدیوں سے ملاقات کرے گا جب کہ پہلے مرحلے میں طے پانے والی باقی لاشیں چھٹے ہفتے میں حوالے کی جائیں گی۔
انہوں نےکہا کہ اگلے ہفتے 22 فروری کو باقی ماندہ اسرائیلی قیدیوں کو رہا کر دیا جائے گا، جنہیں پہلے مرحلے میں رہا کرنے پر رضامندی ظاہر کی گئی تھی۔ ان کی تعداد چھ ہے۔ ان میں “ہشام السید” اور “ابراہیم مینگیستو” شامل ہیں۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ یہ اقدامات معاہدے کی شرائط پر عمل درآمد میں حماس کی سنجیدگی کو ظاہر کرتے ہیں۔