Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

Palestine

شہداء اور اسیران کے خاندانوں کےمعاوضے بند کرنے کا فیصلہ ظالمانہ ہے، واپس لیا جائے:قدورہ فارس

رام اللہ  (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) فلسطینی محکمہ امور اسیران کے سربراہ قدورا فارس نے فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس کی طرف سے قیدیوں، شہداء اور زخمیوں کے اہل خانہ کو مالی الاؤنسز کی ادائیگی کے نظام کو منسوخ کرنے اور بعض خاندانوں کے کیسز کو قومی اقتصادی بحالی فاؤنڈیشن کو منتقل کرنے کے بارے میں کل پیر کے روز جاری کردہ فیصلے کو مسترد کردیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ صدر محمود عباس نے یہ فیصلہ من مانی پالیسی کے تحت جاری کیا جسے سن کر وہ حیران رہ گئے۔

فارس نے منگل کو رام اللہ میں قیدیوں کے امور کی اتھارٹی کے ہیڈکوارٹر میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ “ہم کل قیدیوں اور شہداء کے حقوق کو منسوخ کرنے کے صدارتی حکم نامے سے حیران رہ گئے ۔ اس بارے میں فیصلہ کرنے کے لیے قومی کونسل کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔

فارس نے قیدیوں کے امور کی اتھارٹی کی جانب سے اس فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے صدر محمود عباس سے مطالبہ کیا کہ وہ اسے واپس لے لیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس فیصلے سے فلسطینی عوام کے وسیع طبقات متاثر ہوتے ہیں۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ اکنامک ایمپاورمنٹ فاؤنڈیشن جس کو بعض مستحق خاندانوں کی فائل منتقل کی گئی ہے ایک سول سوسائٹی کی تنظیم ہے۔یہ تنظیم – اپنے کام کے دائرہ کار میں ٹیمیں بھیجے گی تاکہ 700 شیکل کی رقم تقسیم کرنے سے پہلے ان خاندانوں کی مالی صورتحال کی مشکل کی تصدیق کی جاسکے۔

فارس نے کہا کہ “قیدیوں اور شہداء کے حقوق کے لیے نئے انتظامی یا معاشی معیارات کے تابع ہونا غیر معقول ہے جو اس مسئلے کی قومی جہت کو نظر انداز کرتے ہیں”۔

قدورہ فارس نے محمود عباس سے اس فیصلے کو فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس فیصلے کو فلسطینی عوام نے بڑے پیمانے پر مسترد کر دیا ہے۔ وہ قیدیوں اور ان کے اہل خانہ کی حمایت کو فلسطینی قومی جدوجہد کا حصہ سمجھتے ہیں۔

انہوں نے اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فیصلہ “ایک ایسی نظیر میں بدل جائے گا جو فلسطینی کاز کے لیے قربانیاں دینے والے افراد اور خاندانوں کے حقوق کو متاثر کرے گا۔

خیال رہے کہ گذشتہ روز فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس نے ایک صدارتی فرمان جاری کیا تھا جس کے تحت انہوں نے شہداء، اسیران اور زخمیوں کے خاندانوں کی سرکاری سطح پر کی جانے والی مالی کفالت ختم کرتے ہوئے بعض خاندانوں کے کیسز قومی ایمپاورمنٹ فاؤنڈیشن کو منتقل کردیے تھے۔ ان کے اس اقدام پر فلسطینی عوام کی نمائندہ قوتوں کی طرف سے سخت رد عمل سامنے آیا ہے۔ انہوں نے فلسطینی اتھارٹی کے اس اقدام کو فلسطینی شہداء، اسیران اور زخمیوں کے خاندانوں اور ان کے بچوں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کے مترادف قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan