لگ بھگ ڈیڑھ ماہ بھوک ہڑتال کے بعد جاں بلب 05 فلسطینیوں کی عباس حکومت کی جیلوں سے رہائی کے بعد اسرائیلی فوج کی جانب سے ان کی گرفتاری پر حماس کے رہنماؤں ڈاکٹر عزیر دویک، فوزی برھوم اور اسماعیل رضوان نے شدید تنقید کی ہے۔ حماس رہنما اسماعیل رضوان نے کہا کہ مغربی کنارے کی تحریک ’’فتح‘‘ کے زیر انتظام حکومت کا محاسبہ لازم ہوگیا ہے۔ عدالتی احکامات کے باوجود آٹھ ماہ تک حماس رہنماؤں کو رہا نہ کرنا، ڈیڑھ ماہ تک بھوک ہڑتال کے بعد قریب المرگ بے گناہ فلسطینی ہم وطنوں کو اسرائیلی فوج کے سپرد کرنے والی حکومت کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جا سکتی۔ اسلامی تحریک مزاحمت ۔ حماس کے ترجمان فوزی برھوم کا کہنا تھا کہ فتح حکومت کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ سکیورٹی تعاون جاری ہے۔ تاہم ان پانچ قیدیوں کو رہا کرکے اسرائیلی فوج کے ہاتھ دینے میں کردار ادا کرکے فتح حکومت نے قیدیوں کی رہائی میں ثالثی ادا کرنے والے امیر قطر کو بھی دھوکہ دیا ہے۔ اسرائیلی کارروائی ان قیدیوں کی رہائی میں کردار ادا کرنے والے ہر فرد کے منہ پر طمانچہ ہے۔ انہوں نے تمام بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں سے اسرائیلی جارحیت کے خلاف کارروائی کا مطالبہ بھی کیا۔ دوسری جانب فلسطینی مجلس قانون ساز نے فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے جمعرات کے روز ان قیدیوں کی رہائی کے ڈرامے کی شدید مذمت کرتے ہوئے فتح حکومت کی اس غدارانہ کارروائی کو فلسطینی تنظیموں کے مابین مفاہمت کی کوششوں کے لیے ایک دھچکا قرار دیا ہے۔