اسرائیل نے مقبوضہ بیت المقدس کے علاقے سلوان میں یہودی آباد کاری کا ایک نیا منصوبہ بنایا ہے۔ سلوان کی جائیدادوں کے تحفظ کے لیے بنائی گئی کمیٹی نے خبردار کرتے ہوئے بتایا کہ اسرائیل بستان کالونی کے نواحی بئر ایوب کے علاقے میں سات ایکڑ اراضی پر نئی تعمیرات قائم کرنا چاہتا ہے۔ کمیٹی کے مطابق اسرائیلی بلدیہ کے عملے نے ایک پارک کی جگہ پر ’’مفاد عامہ کی بلڈنگ‘‘ کے نام پر یہودیوں کو بسانے کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ عمارت بطن الھوی کالونی میں ’’بیت یوناتان‘‘ کے نام سے معروف یہودی بستی کے قریب بنائی جا رہی ہے۔ منصوبے کے مطابق اس نئی تعمیر کا مقصد بستان کالونیوں کے آٹھ فلسطینیوں کے گھروں کو مسمار کرکے نئی عمارتیں قائم کرنا ہے، اس منصوبے سے علاقے میں فلسطینیوں کے وجود کو شدید خطرات لاحق ہوگئے ہیں۔ اسرائیل اس علاقے کو مکمل طور پر تلمودی مذہبی مقام میں تبدیل کرنا چاہتا ہے بالخصوص بستان کالونی اور بطن الھوی سے ملحق علاقہ اسرائیلی بلدیہ کا خصوصی ہدف ہیں۔ کمیٹی نے بتایا کہ بلدیہ کی جانب سے صہیونی تعمیرات کے پوسٹر نصب کردیے گئے ہیں، یہ پوسٹرز کے مطابق بلدیہ نے اس منصوبے کی منظوری 16 اگست 2010ء کو دی ہے۔ منظوری کے ساتھ منصوبے پر اعتراض پیش کرنے کے لیے ایک ماہ کی مہلت دی گئی ہے، تاہم حیرت کی بات یہ ہے کہ بلدیہ نے یہ منظوری کے پانچ ماہ بعد یہ پوسٹر دیواروں پر نصب کیے ہیں تاکہ اعتراض کی مدت ختم ہو جائے اور کوئی فلسطینی اس منصوبے پر تحفظ کا اظہار نہ کر سکے۔