Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

اقوام متحدہ

انروا کو 80 ملین ڈالر کے خسارے کا سامنا، پروگراموں میں تبدیلیوں پر غور

عمان – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اقوام متحدہ کی امدادی ایجنسی برائے فلسطینی مہاجرین ‘انروا’ نے انکشاف کیا ہے کہ وہ شدید ہوتے مالی بحران اور 80 ملین ڈالر کے نقد بہاؤ میں خسارے کے پیشِ نظر اپنے آپریشنز اور پروگراموں کا جامع جائزہ لے رہی ہے۔ ایجنسی نے اس بات کی تصدیق کی کہ وہ اس بحران سے نمٹنے کے لیے متعدد اختیارات پر غور کر رہی ہے، جن میں اپنے پروگراموں اور خدمات کی فراہمی کے طریق کار میں تبدیلیاں کرنا شامل ہے، جبکہ آخری حربے کے طور پر ملازمین کی تعداد میں کمی کے آپشن کو بھی رد نہیں کیا گیا ہے۔

اردن کے دارالحکومت عمان سے جاری کردہ ایک پریس ریلیز میں ایجنسی نے کہا کہ غیر معمولی مالی دباؤ، بین الاقوامی فنڈنگ میں کمی اور بالخصوص غزہ میں رفتہ رفتہ بڑھتی ہوئی آپریشنل پابندیوں اور سخت حالات نے موجودہ صورت حال کو برقرار رکھنا ناممکن بنا دیا ہے۔ ایجنسی نے انتباہ کیا کہ مالی واجبات کا جمع ہونا طویل المدت بنیادوں پر اس کے کام کے تسلسل کے لیے شدید خطرہ ہے۔

ایجنسی نے وضاحت کی کہ اس کے وسائل پر مسلسل دباؤ کے باعث فلسطینی مہاجرین کو فراہم کی جانے والی کچھ خدمات کی معیار پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں، جبکہ مالی بحران سے نمٹنے کے لیے گذشتہ کئی برسوں سے بچت اور اخراجات میں کمی کے اقدامات بھی نافذ العمل رہے ہیں۔

ملازمین کی کمی آخری حربہ

انروا نے اس بات کی تصدیق کی کہ ورک فورس میں کمی ان کے زیرِ غور آپشنز میں سے ایک ہے، لیکن اس نے اس بات پر زور دیا کہ وہ اس اقدام کی طرف صرف اسی صورت میں جائے گی جب مالی اور آپریشنل حالات کوئی دوسرا قابلِ عمل متبادل نہ چھوڑیں۔

ایجنسی نے اعتراف کیا کہ 28 ہزار مرد و خواتین ملازمین کی موجودگی کے پیشِ نظر ایسے اقدامات کے شدید اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، جن کی اکثریت فلسطینیوں پر مشتمل ہے۔ اس کے علاوہ ان ملازمین کے خاندانوں اور ان مقامی برادریوں پر بھی اس کے اثرات پڑیں گے جنہیں ایجنسی خدمات فراہم کرتی ہے۔

ایجنسی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اس نے ملازمین کی تعداد یا اپنے آپریشنز اور پروگراموں کے دائرہ کار کے حوالے سے ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا ہے۔ اس نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ وہ ختم ہونے کے عمل سے نہیں گزر رہی، بلکہ جاری جائزہ کا مقصد ان ممکنہ اختیارات کا تعین کرنا ہے جو ان سخت مالی حالات کے باوجود اس کے کام کے تسلسل کو یقینی بنا سکیں۔

خدمات کو متاثر کرنے والے بچت کے اقدامات

ایجنسی نے اشارہ کیا کہ اس نے جنوری سنہ 2026ء سے اخراجات میں کمی کے اقدامات کے ایک مجموعے پر عمل درآمد شروع کر دیا تھا، جس میں ملازمتوں کا تحفظ کرنے اور مہاجرین کو فراہم کی جانے والی بنیادی خدمات کو برقرار رکھنے کی کوشش کے تحت خدمات اور کام کا ہفتہ 20 فیصد تک کم کرنا شامل تھا۔

ان خدمات میں ایجنسی کے پانچوں آپریشنل علاقوں یعنی غزہ، مغربی کنارے، اردن، لبنان اور شام کے شعبہ ہائے تعلیم، صحت اور ریلیف شامل ہیں۔

تاہم مالی بحران کا تسلسل اور وسائل میں کمی ایجنسی کو بڑھتے ہوئے چیلنجز کے سامنے لا کھڑا کر رہی ہے، ایک ایسے وقت میں جب مہاجرین کی انسانی ضروریات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، بالخصوص قطاع غزا میں جو جنگ، وسیع پیمانے پر تباہی اور معیشت کی ابتر صورت حال کے نتیجے میں استثنائی حالات کا سامنا کر رہا ہے۔

بغیر کافی فنڈنگ کے اقوام متحدہ کا مینڈیٹ

اسی سیاق و سباق میں انروا نے یاد دہانی کرائی کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے دسمبر سنہ 2025ء میں بھاری اکثریت سے اس کے مینڈیٹ کی تجدید کی تھی، تاہم اس مینڈیٹ پر عمل درآمد کے لیے مطلوبہ فنڈنگ اس سطح پر فراہم نہیں کی گئی جس کی ضرورت تھی۔

ایجنسی نے عطیہ دہندہ ممالک اور بین الاقوامی شراکت داروں سے اپیل کی کہ وہ پائیدار اور قابلِ پیشگوئی فنڈنگ کی فراہمی کے لیے فوری اقدام کریں۔ اس نے انتباہ کیا کہ وسائل کی مسلسل کمی کے نتیجے میں فلسطینی مہاجرین کو فراہم کی جانے والی بنیادی خدمات مزید تباھی و تنزلی کا شکار ہوں گی۔

ایجنسی نے اس بات کا اعادہ کیا کہ وہ اپنے لیے مقرر کردہ اقوام متحدہ کے مینڈیٹ کے مطابق اپنے فرائض کی انجام دہی جاری رکھے گی، جب تک کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی جو اس کے لیے واحد بااختیار ادارہ ہے اس مینڈیٹ کو تبدیل کرنے یا ختم کرنے کا فیصلہ نہ کرے۔

اس نے انتباہ کیا کہ اس وقت کوئی دوسری ایسی تنظیم موجود نہیں ہے جو اتنے بڑے پیمانے پر بنیادی خدمات اور انسانی امداد فراہم کرنے کی اہل ہو جتنی انروا فراہم کر رہی ہے، بالخصوص غزہ میں۔ اس نے واضح کیا کہ کافی مالی مدد کی عدم موجودگی کا اثر صرف خدمات کی تنزلی تک محدود نہیں رہے گا، بلکہ یہ فلسطینی مہاجرین کے حقوق کو پامال کرنے اور علاقے میں عدم استحکام کی صورت حال کو مزید گہرا کرنے کا سبب بنے گا۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan