تل ابیب – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) برطانوی محقق اور دانشو جوناتھن کک نے کہا ہے کہ اسرائیلی انتخابات نے جعلی اسرائیلی جمہوریت کے دعوؤں کا پول کھول دیا ہے، نیز اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ مغرب اب بھی قابض اسرائیل کے پھیلائے ہوئے جھوٹے بیانیوں پر یقین رکھنا چھوڑنے سے قاصر ہے۔
جوناتھن کک نے بدھ کے روز شائع ہونے والے ایک سیاسی تجزیے میں زور دے کر کہا کہ انتخابات کے بعد جاری مذاکرات کے نتیجے میں جو بھی حکومت تشکیل پائے گی، خواہ اسے عرب پارٹیوں کی حمایت ہی کیوں نہ حاصل ہو وہ انتہا پسند دائیں بازو کے تسلط میں ہی رہے گی۔ انہوں نے اس بات کی طرف توجہ دلائی کہ اپوزیشن کا اتحاد، قطع نظر اس کے کہ وہ قابض فوج کے تحت زندگی گزارنے والے فلسطینی ہوں یا اسرائیلی شہریت رکھنے والے، ان کے ساتھ عداوت اور شدت پسندی میں بنجمن نیتن یاھو کی قیادت میں بننے والی حکومت سے کسی طور کم نہیں ہوگا۔
انہوں نے وضاحت کی کہ انتخابی مہم جو سنہ 2023ء کے آخر میں غزہ پر قابض اسرائیل کی نسل کشی کی جنگ کے آغاز کے بعد پہلی انتخابی مہم ہے، اس میں نسل کشی کے موضوع پر بحث بالکل غائب رہی، جبکہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں پر یہودی آباد کاروں کے بڑھتے ہوئے حملوں کو بھی مکمل طور پر نظر انداز کر دیا گیا۔
برطانوی محقق نے اس بے حسی کو اس بات کی عکاسی قرار دیا کہ اسرائیلی یہودی معاشرے کے اندر قابض اسرائیل کو اس چیز میں تبدیل کرنے پر اتفاقِ رائے موجود ہے جسے انہوں نے ’مشرقِ وسطیٰ کا اسپارٹا‘ قرار دیا، جس کا مطلب پڑوسی ممالک کو خوف زدہ کرنا اور ان کے خلاف تشدد کا استعمال کرنا ہے، نیز یہ کہ یہ تمام تر سچے مسائل اب انتخابی بیانیے کا حصہ نہیں رہے۔
جوناتھن کک نے خبردار کیا کہ بنیامن نتن یاھو کو اگر یہ احساس ہوا کہ ان کے ہاتھ سے اقتدار کا کنٹرول نکل رہا ہے، تو وہ غزہ پر بمباری تیز کرنے اور ایران کے خلاف جنگ دوبارہ شروع کرنے کے حربے استعمال کر سکتا ہے، کیونکہ اسرائیلی معاشرے کے اندر اس روش کی وسیع پیمانے پر تائید موجود ہے۔
انہوں نے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ رواں سال کے آغاز میں کیے گئے ایک سروے سے معلوم ہوا ہے کہ اسرائیلی نوجوانوں کے اندر انتہا پسندانہ دائیں بازو کے رجحانات اور مذہبی جنونیت میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ خود کو بایاں بازو بتانے والوں کا تناسب 5 فیصد سے زیادہ نہیں ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ عبرانی چینل 12 نے 18 سے 21 سال کی عمر کے نوجوانوں کے ایک نمائندہ گروہ کو مدعو کیا، جہاں 11 شرکا نے فلسطینی پارٹیوں کو اسرائیلی پارلیمنٹ میں داخل ہونے، نیز حکومت میں شامل ہونے دینے سے صاف انکار کر دیا، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ نئے ووٹرز کا رجحان دائیں بازو کی مزید انتہا پسندی کی طرف ہے۔
جوناتھن کک کا ماننا تھا کہ انتخابات کے نتائج برطانوی گرین پارٹی کے موقف کی تصدیق کرتے ہیں، جس نے گذشتہ ماہ اعلان کیا تھا کہ صیہونیت بہ طور ایک ایسا نظریہ جس کی بنیاد پر قابض اسرائیل ایک یہودی ریاست کے طور پر قائم ہے، ایک نسل پرستانہ نظریہ ہے۔
برطانوی محقق نے اپنے تجزیے کا اختتام یہ کہتے ہوئے کیا کہ صیہونیت کا قائم کردہ فلسفہ، نہ کہ سکیورٹی تحفظات، وہ بنیادی وجہ ہے جس نے قابض اسرائیل کو غزہ کو تباہ کرنے اور دسیوں ہزار فلسطینی بچوں کو شہید و زخمی کرنے پر اکسایا، نیز وہی فلسفہ یہودی پارٹیوں کو بنیامن نتن یاھو کو ہٹانے کے لیے فلسطینی اقلیت کے ساتھ کسی بھی سمجھوتے تک پہنچنے سے روکتا ہے۔
جوناتھن کک نے اپنے تجزئیے کی روشنی میں اس بات کی تصدیق کی کہ اسرائیلیوں کی اکثریت ان پالیسیوں پر کاربند ہے جن کا ہدف فلسطینی ہیں، جبکہ مغرب اس بات کی تشہیر جاری رکھے ہوئے ہے کہ نسل پرستانہ رویہ صرف نتن یاھو تک محدود ہے اور انتخابات کے ذریعے ان کی تبدیلی ہی اصلاح کا ذریعہ بنے گی، تاہم انہوں نے متنبہ کیا کہ آنے والے ہفتے اس خام خیالی کو مکمل طور پر بے نقاب کر دیں گے۔
