رام اللہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) کمیشن برائے امور اسیران نے بدنام زمانہ صہیونی عقوت خانے الدامون میں پابند سلاسل فلسطینی خواتین کو بھوک سے تڑپانے، علاج سے محروم رکھنے، ظلم و تشدد اور جسمانی و نفسیاتی اذیتوں کا نشانہ بنائے جانے کی مسلسل پالیسی کے نتیجے میں ان کی صحت اور زندگی کے حالات کی شدید ابتری پر متنبہ کیا ہے، جس سے ان کی زندگیوں اور سلامتی کو سنگین خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔
کمیشن نے بدھ کے روز جاری کردہ ایک بیان میں دو اسیر خواتین کے شہادتوں پر روشنی ڈالی ہے جو ضروری طبی دیکھ بھال سے محرومی، کھانے کی مقدار میں شدید کمی، نقل و حرکت پر سخت پابندیوں اور بنیادی زیست کے حقوق سے محرومی کے سائے میں اسیر خواتین کو درپیش دلدوز حالات کا ایک رخ بے نقاب کرتی ہیں۔
سات ستمبر سنہ 2025ء سے گرفتار اسیر خاتون هناء محمد حسن البیق کی شہادت سے انکشاف ہوا ہے کہ تخصصی طبی نگہداشت کی عدم موجودگی کے نتیجے میں ان کی صحت ابتر ہو گئی ہے، حالانکہ وہ گرفتاری سے قبل تھائرائیڈ کی بیماری میں مبتلا تھیں اور انہیں علاج کی مناسب خوراک کا تعین کرنے کے لیے باقاعدہ معائنہ کروانے کی ضرورت تھی۔
البیق کو ان کی گرفتاری کے بعد سے تھائرائیڈ کے ماہر ڈاکٹر کو نہیں دکھایا گیا، جبکہ وہ گذشتہ جولائی سے خارش کی بیماری میں مبتلا ہیں اور انہیں ضروری علاج فراہم نہیں کیا جا رہا، جس کے نتیجے میں مسلسل خارشت اور شدید درد جاری ہے، نیز ناقص غذائیت، کھانے کی کمی اور اس کی غذائی افادیت ختم ہونے کے نتیجے میں قید خانے میں داخلے کے بعد سے ان کا وزن 42 کلوگرام تک کم ہو چکا ہے۔
قید خانے کے اندر تشدد کے واقعات کے تناظر میں کمیشن نے بتایا کہ البیق اور ان کی ساتھی اسیر خواتین کو گذشتہ اٹھائیس اکتوبر کو قابض صہیونی عقوبت خانوں کی انتظامیہ سے وابستہ ’یماز‘ فورسز کے ہاتھوں جیل کے افسر کی شراکت سے شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا، جس میں اسیر خواتین کے ہاتھ پیچھے باندھے گئے، ان کی آنکھوں پر پٹیاں باندھیں، انہیں زدوکوب کیا، کمروں کے اندر زہریلی گیس چھوڑی اور انہیں گالیاں و سخت اہانت آمیز الفاظ سے ہراساں کیا گیا۔
الدامون جیل میں اسیر خواتین کی تعداد 82 ہے جبکہ اسیر خاتون بشرى الطويل جیل سے باہر قید تنہائی کےسیل میں قید ہیں۔ کمیشن کی رپورٹ کے مطابق اسیر خواتین کھانے کی خرابی اور اس کی کم مقدار سے تڑپ رہی ہیں۔ علاوہ ازیں جیل کے صحن میں ان کے نکلنے کا کوئی باقاعدہ وقت نہیں ہے، جہاں انہیں آدھے گھنٹے سے زیادہ وقت نہیں دیا جاتا۔
کمیشن نے 22 جنوری سنہ 2026ء سے گرفتار اسیر خاتون سجا دراغمہ کی صحت کی ابتری کو بھی ریکارڈ کیا ہے، جو شدید آدھے سر کے درد (مائیگرین) اور نظر کی کمزوری میں مبتلا ہیں، اس کے علاوہ وہ گذشتہ جولائی سے خارش کا شکار ہیں اور ضروری علاج نہ ملنے کی وجہ سے مسلسل درد اور خارش سے تڑپ رہی ہیں۔
اسیران کے اداروں کے جدید ترین اعداد و شمار کے مطابق اکتوبر سنہ 2026ء کے آخر تک قابض صہیونی عقوبت خانوں میں 9 ہزار 350 سے 9 ہزار 400 کے درمیان فلسطینی اسیران اور قیدی موجود ہیں، جن میں 88 کے قریب اسیر خواتین، 350 سے زائد بچے، اور 3100 کے قریب بغیر کسی جرم یا مقدمے کے قید اداری کے تحت محبوس افراد شامل ہیں۔
یہ حقائق سات اکتوبر سنہ 2023ء سے اسیران کے خلاف بڑھتے ہوئے مظالم کے سائے میں سامنے آئے ہیں، جن میں تشدد، بھوک سے تڑپانا، طبی غفلت، قید تنہائی اور ملاقاتوں سے محرومی شامل ہیں، جبکہ اسیران کی تحریک کے شہداء کی تعداد جنگ کے آغاز سے اب تک 92 معلوم شناخت اسیران تک پہنچ چکی ہے، جن میں 53 اسیران کا تعلق غزہ سے ہے، جیسا کہ اسیران کے میڈیا دفتر کی اکتوبر سنہ 2026ء کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے۔
