غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) غزہ کی پٹی میں طبی انخلا پر قابض اسرائیل کی عائد کردہ پابندیوں اور بیرونِ پٹی علاج کے محتاج شدید تشویش ناک مریضوں کا سفر معطل کیے جانے کے باعث ہزاروں زخمیوں اور بیماروں کی مشکلات کا سلسلہ مسلسل جاری ہے، جبکہ صحت کے المیے میں وسعت اور انتظار کی سولی پر لٹکے افراد کی زندگیوں کو بڑھتے ہوئے خطرات کے باوجود انتہائی محدود تعداد ہی بیرونِ ملک جانے میں کامیاب ہو سکی ہے۔
غزہ کی پٹی میں فلسطینی وزارتِ صحت نے بدھ کی شام اعلان کیا کہ اکتوبر کے مہینے کے دوران 17 دنوں میں سے صرف سات دنوں کے اندر محض 209 مریض اور زخمی ہی بیرونِ ملک علاج کے لیے پٹی سے نکلنے میں کامیاب ہو سکے۔
وزارت نے اس بات پر زور دیا کہ قابض اسرائیل کی سخت پابندیاں اب بھی ہزاروں شدید تشویش ناک حالتوں کا محاصرہ کیے ہوئے ہیں۔ نیز اس بات کا اعادہ کیا کہ بیرونِ ملک جانے والوں کی تعداد پٹی میں صحت کے المیے کے حجم سے کسی طور مطابقت نہیں رکھتی اور انخلا کے مراحل میں لیت و لعل کا رویہ ایک عمدی تاخیر ہے جو ہزاروں مریضوں اور زخمیوں کی زندگیوں کو براہِ راست خطرے میں ڈالتی ہے۔
وزارت نے متنبہ کیا کہ بارڈر کراسنگز کے کھولنے میں بے قاعدگی اور منظوریوں کے اجراء میں تاخیر طبی انخلا کو وقت کے خلاف ایک ایسی دوڑ میں بدل دیتی ہے جس کے دوران شدید تشویش ناک حالتیں بچ نکلنے اور ضروری علاج حاصل کرنے کا اپنا موقع گنوا دیتی ہیں۔
وزارت صحت نے قابض حکام پر سخت دباؤ ڈالنے کا مطالبہ کیا تاکہ عائد کردہ پابندیاں ختم کی جائیں اور انہیں مستقل و باقاعدہ بنیادوں پر کراسنگز کھولنے کا پابند بنایا جائے، جس سے مریضوں اور زخمیوں کا انخلا اور پٹی سے باہر ان کے علاج تک رسائی یقینی بنائی جا سکے۔
اسی تناظر میں وزارتِ صحت میں میڈیکل ریفرل کمیٹی نے چند روز قبل انکشاف کیا تھا کہ فروری سنہ 2026ء سے اب تک بیرونِ ملک علاج کے لیے غزہ سے نکلنے میں کامیاب ہونے والے مریضوں اور زخمیوں کی کل تعداد 3056 تک پہنچی ہے، جن میں سے 2614 پٹی کے جنوب میں واقع رفح بری کراسنگ کے ذریعے اور 442 اس کے جنوب مشرق میں واقع کرم ابو سالم کراسنگ کے ذریعے باہر گئے۔
بیرونِ ملک فوری علاج کے لیے سفر کی منتظر فہرستوں میں اب بھی 21 ہزار 468 کے قریب مریض اور زخمی درج ہیں، جن میں سے 6430 حالتیں طبی انخلا کے لیے نامزد اور ترجیحی بنیادوں پر ہیں، جو علاج کے محتاج افراد کی تعداد اور پٹی سے باہر جانے میں کامیاب ہونے والے محدود افراد کے درمیان ایک گہرے اور وسیع خلا کو ظاہر کرتا ہے۔
قابض دشمن نے اکتوبر سنہ 2025ء میں نافذ العمل ہونے والے جنگ بندی معاہدے کے دوسرے مرحلے کے تحت، اسرائیلی شرائط اور سیکیورٹی منظوریوں کے مطابق فروری سنہ 2026ء کے آغاز میں رفح کراسنگ کو جزوی طور پر دوبارہ کھولا تھا۔
