Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

اسرائیل

اسرائیلی صحافی نے نتن یاھو کو یہودی تاریخ کا بدترین ترین شخص قرار دے دیا

یروشلم – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اسرائیلی صحافی اور معاشی تجزیہ نگار نحیمیا شتراسلر نے اخبار “ہارٹز” میں 44 سال پر محیط اپنے پیشہ ورانہ سفر کے اختتام پر ایک تند و تیز مضمون تحریر کیا ہے جس میں انہوں نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نتن یاھو کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے حالیہ اسرائیلی انتخابات کے نتائج پر گہری صدمے کی حالت کا اظہار کیا، جن میں توقعات کے برعکس بنیامن نتن یاھو کو اپوزیشن کی بلڈنگ بلاک برائے تبدیلی کے قائد گادی آئزنکوٹ پر برتری حاصل ہوتے دکھایا گیا ہے۔

اپنے الوداعی مضمون میں، جو ان کی ریٹائرمنٹ کے اعلان کے ساتھ ہی شائع ہوا، شتراسلر نے انتخابی رات کو شدید مایوسی کا لمحہ قرار دیا۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ رات 10:00 بجے جاری ہونے والے ابتدائی سروے کے نتائج سے واضح ہوا کہ بنیامن نتن یاھو کو آئزنکوٹ کے اتحاد کے مقابلے میں زیادہ پارلیمانی نشستیں حاصل ہوئی ہیں۔

مصنف نے بنیامن نتن یاھو کی اس برتری حاصل کرنے کی صلاحیت پر تعجب کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اپنے دورِ حکومت میں اسرائیل کو پہنچائے جانے والے تباہ کن نقصان کے پیش نظر وہ اس بات کے مستحق تھے کہ انتخابات سے بغیر کسی نشست کے باہر ہوتے اور خالی ہاتھ گھر لوٹتے۔

بنیامن نتن یاھو ناکامیوں اور جنگوں کے ذمہ دار

شتراسلر نے اسرائیلی وزیراعظم کو اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ کی مالی معاونت، سات اکتوبر سنہ 2023ء کے حملے کو روکنے میں ناکامی، اسرائیل کو مسلسل جنگوں کے دلدل میں دھکیلنے، اسیران کو تنہا چھوڑنے، اور ایرانی ایٹمی خطرے کو ختم کرنے میں ناکامی کا براہ راست ذمہ دار ٹھہرایا، جس کے نتیجے میں اسرائیل کا وقار مجروح ہوا اور وہ بین الاقوامی سطح پر ایک منبوز ریاست بن گیا۔

مصنف نے بنیامن نتن یاھو کی انتخابی برتری کو تبدیلی کے معسکر کی اس نااہلی سے تعبیر کیا جس کے تحت وہ لیکوڈ پارٹی کے ووٹروں کو اپنی طرف نہ کھینچ سکے، جبکہ وزیراعظم نے خوف کی فضا قائم کرنے، اسرائیلیوں کے وجودی خدشات کو ابھارنے اور انہیں اس بات پر قائل کرنے میں کامیابی حاصل کی کہ ان کا اقتدار سے الگ ہونا ملک کو مکمل تباہی کی طرف لے جائے گا۔

انہوں نے وضاحت کی کہ بنیامن نتن یاھو اپنی حکومت کے خاتمے کو اسرائیل کے مستقبل کے لیے خطرہ بنا کر پیش کرنے میں کامیاب رہے، جس کے لیے انہوں نے سخت اقتصادی تعزیرات کے خدشات، امریکہ کی طرف سے دفاعی چھتری کے خاتمے، اور ایران کے ممکنہ ایٹمی حملے کی دھمکیاں دیں۔

اس برتری کے باوجود شتراسلر کا ماننا ہے کہ بنیامن نتن یاھو اکیلے حکومت بنانے کے لیے مطلوبہ نشستیں حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ بنیامن نتن یاھو ایران کے ساتھ ایک وسیع عسکری تصادم کا ڈرامہ رچا سکتے ہیں تاکہ ایک قومی ہنگامی صورتحال پیدا کی جا سکے جو انہیں قومی وحدت یا ہنگامی حکومت کی تشکیل کی طرف لے جائے اور وہ اقتدار پر براجمان رہ سکیں۔

صحافت اور معاشی میدان میں 44 سالہ جدوجہد

شتراسلر نے اپنے الوداعی مضمون میں “ہارٹز” کے ساتھ اپنے 44 سالہ صحافتی سفر کے اہم موڑ یاد کیے، جب سنہ 1980ء کی دہائی کے آغاز میں انہوں نے صحیفے میں قدم رکھا اور اس وقت کے ایڈیٹر انچیف گرشوم شوکن کے ساتھ پہلا انٹرویو دیا۔

انہوں نے اشارہ کیا کہ اس دور میں اسرائیلی معیشت ایک پسماندہ سوسیلسٹ معاشی نظام، تیز رفتار افراطِ زر، بجٹ کی شدید قلت، اور غیر ملکی زرِ مبادلہ کے ذخائر کے ختم ہونے کے خدشات کی وجہ سے شدید بحران کا شکار تھی۔

حکومت، مزدور یونینز کا اتحاد (ہستدروت) اور بڑے بینک معیشت کی باگ ڈور پر حاوی تھے، جبکہ بھاری کسٹمز ڈیوٹی نے مقابلے کی فضا کو محدود کر کے مارکیٹ پر اجارہ داری قائم کر رکھی تھی۔

مصنف نے معاشی شعبے کے ایڈیٹر کے طور پر اپنی ان صحافتی مہمات کو یاد کیا جن میں آزاد مارکیٹ کی معیشت کو اپنانے، حکومتی اخراجات کم کرنے، اور تجارتی یونینز کی معاشی اجارہ داری کا مقابلہ کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

انہوں نے اپنی جانب سے لڑی جانے والی کئی صحافتی جنگوں کا بھی ذکر کیا، جن میں بینک لیومی کے چیئرمین کی بھاری پینشن کو بے نقاب کرنا، بینکوں کے تباہی کے ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ اور دکانوں کو اشیاء کی قیمتیں گاہکوں کے سامنے واضح طور پر نمایاں کرنے کا پابند بنانا شامل تھا۔

معیشت سے بنیامن نتن یاھو کے خاتمے کی جنگ تک

شتراسلر نے واضح کیا کہ حالیہ برسوں میں ان کی صحافتی ترجیحات بدل گئی تھیں۔ دہائیوں تک اسرائیلی معیشت کی جدیدیت اور ترقی کی جانب پیش رفت کا جائزہ لینے کے بعد، گذشتہ تین سالوں سے انہوں نے اپنی تمام تر توجہ بنیامن نتن یاھو اور ان کے سیاسی اقدامات پر تنقید کرنے پر مرکوز کر دی تھی۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ اس دورانیے کے دوران انہوں نے 60 مضمون شائع کیے جن میں اسرائیلی وزیراعظم پر شدید حملے کیے گئے اور انہیں “یہودی تاریخ کا سب سے کمین شخص” قرار دیا، جو ان کی تحریروں میں ان کے خلاف شدید سیاسی عداوت کی عکاسی کرتا ہے۔

اسرائیلی صحافی نے اپنے مضمون کا اختتام “ہارٹز” اخبار کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کیا جس نے انہیں 44 سال تک آزادی کے ساتھ کام کرنے اور اپنے موقف کا اظہار کرنے کا موقع دیا، اور ان تمام قارئین کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے ان کی تحریروں کو پڑھا اور ان کی پیشہ ورانہ مسافت میں ساتھ دیا۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan