مقبوضہ مغربی کنارہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) مقبوضہ مغربی کنارے میں یہودی آباد کاروں کی جانب سے کی جانے والی غنڈہ گردی اور شدید حملوں میں گذشتہ اکتوبر کے دوران بے مثال اضافہ درج کیا گیا ہے۔ جانی و مالی نقصانات کا سبب بننے والے ان حملوں کی تعداد نے سنہ 2006ء میں اقوامِ متحدہ کی جانب سے ڈیٹا کے اندراج کے آغاز سے لے کر اب تک کے تمام ماہانہ ریکارڈز کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔
اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے انسانی امور “اوچا” نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں انسانی صورتِ حال کے حوالے سے جاری کردہ اپنی رپورٹ میں بتایا کہ یکم اکتوبر سے 26 اکتوبر تک کے عرصے کے دوران یہودی آباد کاروں کے 397 حملےریکارڈ کیے گئے۔
ان حملوں کی نگرانی کے آغاز کے بعد سے کسی ایک ماہ میں درج کی جانے والی یہ سب سے بڑی ریکارڈ تعداد ہے، حالانکہ اس کے کہ اس اعداد و شمار میں مہینے کے آخری پانچ دنوں کا شمار شامل نہیں ہے۔
دفتر نے واضح کیا کہ 20 سے 26 اکتوبر کی درمیانی مدت کے دوران 62 حملے پیش آئے، جن میں مقبوضہ مغربی کنارے کے مختلف علاقوں کی 49 فلسطینی آبادیوں کو نشانہ بنایا گیا۔ ان میں سے 38 حملے زیتون کی فصل اتارنے کے موسم سے جڑے ہوئے تھے، جو کسانوں، ان کی زمینوں اور ان کے ذرائعِ معاش پر بننے والے بڑھتے ہوئے خطرات کو ظاہر کرتے ہیں۔
اسی سیاق و سباق میں رپورٹ میں اسی ایک ہفتے کے دوران مقبوضہ مغربی کنارے اور مقبوضہ بیت المقدس کے مختلف علاقوں میں یہودی آباد کاروں اور قابض افواج کے حملوں کے نتیجے میں نو بچوں سمیت 57 فلسطینیوں کے زخمی ہونے کو بھی دستاویز کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق 23 فلسطینی یہودی آباد کاروں کے حملوں میں زخمی ہوئے، جبکہ 34 افراد قابض فوج کی فائرنگ اور حملوں کے نتیجے میں زخمی ہوئے۔ اس بات کی بھی نشاندہی کی گئی کہ 27 زخمی یہودی آباد کاروں کی غنڈہ گردی کا نتیجہ تھے، جن میں سے 18 چوٹیں زیتون چننے کے موسم سے وابستہ حملوں کے دوران آئیں۔
مقبوضہ مغربی کنارے کے شمال میں واقع طوباس گورنری میں اوچا نے خربہ رأس الاحمر کے چراہ گاہوں پر مبنی علاقوں سے 24 فلسطینی خاندانوں کی نقلِ مکانی کو ریکارڈ کیا، جن میں 40 بچوں سمیت 94 افراد شامل ہیں۔ یہ نقلِ مکانی یہودی آباد کاروں کے بار بار کے حملوں اور اس علاقے تک شہریوں کی رسائی پر عائد شدید پابندیوں کے باعث پیش آئی۔
یہ حملے اکتوبر سنہ 2023ء میں غزہ کی پٹی پر قابض اسرائیل کی نسل کشی کی جنگ کے آغاز کے بعد سے فلسطینیوں اور ان کی املاک پر یہودی آباد کاروں اور قابض افواج کے جاری مظالم کے پسِ منظر میں سامنے آ رہے ہیں۔ اس دوران مقبوضہ مغربی کنارے اور مقبوضہ بیت المقدس میں قتل، گرفتاریوں، مکانات و تنصیبات کی مسماری، مساجد و گاڑیوں کو نظرِ آتش کرنے اور زرعی زمینوں کو بلڈوز کرنے کے واقعات میں شدید اضافہ ہوا ہے۔
اس کے علاوہ کسانوں کو ان کے کھیتوں تک جانے سے روکنے، رہائشی اور چراہ گاہوں پر مشتمل آبادیوں کو نشانہ بنا کر وہاں کے باشندوں کو جبری طور پر بے دخل کرنے کا سلسلہ بھی مسلسل جاری ہے، جس کے ساتھ ساتھ غیر قانونی یہودی بستیوں کی توسع اور فلسطینی زمینوں کی غصب کاری کا عمل بھی تیزی سے پھیل رہا ہے۔
اکتوبر کے دوران اقوامِ متحدہ کے یہ ریکارڈ توڑ اعداد و شمار مقبوضہ مغربی کنارے کے وسیع تر علاقوں میں یہودی آباد کاروں کے تشدد کے دائرے کے پھیلنے اور فلسطینیوں کی زندگی، ان کی املاک اور ان کے وجود کے لیے ایک بڑھتے ہوئے خطرے میں تبدیل ہونے کی عکاسی کرتے ہیں۔
